اپنے عہد اور سماج سے کٹ کر ادب کی افادیت کم ہوجاتی ہے : دلیپ پانڈے

نئی دہلی(پریس ریلیز): ادب اور شاعری اگر سماج اور اپنے عہد سے کٹ جائے تو اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے۔ عتیق انظر کی شاعری میں ان کا عہد اور سماجی سروکار بولتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح اپنی مٹی کی سوندھی خوشبو اور اپنے وطن کی وراثت کو اپنی شاعری میں شامل کیاہے،وہ قابل ستائش ہے۔ ان خیا لات کا اظہارعآپ کے ترجمان،ممتاز ادیب و دانشور دلپپ پانڈے نے عتیق انظر کے دوسرے مجموعہ کلام ”دوسرا جسم “ کی تقریب رسمِ اجرا و مشاعرہ میں کیا ۔ آئیڈیا کمیونی کیشنز اور شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقد اس تقریب کی صدارت شعبہ کے صدر اور دہلی اردو اکادمی کے وائس چیرمین پروفیسر شہپر رسول نے کیا، جب کہ تعارفی کلمات آئیڈیا کے ڈائرکٹر آصف اعظمی نے ادا کیے۔ پروفیسر ابن کنول (دہلی یونیورسٹی) اور پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) نے بطور مہمانان اعزازی شرکت کی اور دیگر معزز مہمانوں میں انجم عثمانی، مظہر محمود، پرویز احمداعظمی، کلیم الحفیظ،اے۔یو۔آصف،ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر تنویر حسین، شعیب رضا وارثی ، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض وغیرہ شامل تھے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر خالد مبشر نے انجام دیے۔

دلیپ پانڈے نے کہا کہ ادب اور شا عری سماج کا آئینہ ہوتی ہے، اس لیے ادیب و شاعر کی ذمہ داری بے حد بڑھ جاتی ہے۔ سارے فنی لوازمات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئندہ پچاس یا سو برس بعد کا قاری جب آج کے دور کی شاعری پڑھے تو اسے علم ہو کہ شاعرکا عہد کیسا تھا، اس کا سماج کیسا تھا اور زندگی کے ساتھ اس کے تجربات کیسے رہے۔

صدارتی خطبہ میں پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ عتیق انظر کی شاعری زندہ رہنے والی شاعری ہے۔ وہ بیک وقت نظم اور غزل دونوں کے شاعر ہیں۔ ان کے شاعری کی تحریک حالات اور وقتی عوامل سے بھلے ہی ملتی ہو، مگر ان کا اسلوب اور فن ان کے شاعری کودیر پا بناتا ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے عتیق انظر کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عتیق انظر ایک کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر ہیں۔ان کا ڈکشن، ان کا اسلوب انہیں معاصر شعرا میں اہم مقام عطا کرتا ہے۔ پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ عتیق انظر کی شاعری کلاسیکی روایات اور جدید اسلوب کا حسین سنگم ہے۔ وہ پردیس میں رہ کر بھی علم و ادب کی خدمت اور ہندوستان کی تہذیبی وراثت کے بقا و تحفظ کے لیے جس طرح کام کر رہے ہیں، وہ یقینا قابل ستائش ہے۔

اپنے تعارفی کلمات میں آصف اعظمی نے کہا کہ ادب میں سماجی سروکار ضروری ہیں،مگر افراط و تفریط سے بچا جانا چاہیے۔ شاعری صرف جوش و جذبات کی تسکین کے لیے نہیں،بلکہ تعمیرو تحریک کے راستہ پر گامزن کر نے کے لیے کی جانی چاہیے۔ اس موقعہ سے صحافی سہیل انجم نے عتیق انظر کے مجموعہ کلام پر ایک وقیع مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عتیق انظر نثر و نظم دونوں پر یکساں قدرت رکھتے ہیں ۔ ان کے مجموعہ کلام پڑھنے سے پہلے اسی مجموعہ میں شامل پیش لفظ پڑھنا بے حد ضروری ہے۔ اس موقع سے صاحب کتاب و اعزاز عتیق انظرنے کہا کہ ان کی شاعری ان تجربات و حوادث کی عکاس ہے جن سے وہ گزرتے ہیں یا جو ان کے ساتھ گزرتاہے۔ وہ اپنے گردو پیش کی دنیا سے خود کو الگ کرکے شاعری نہیں کر سکتے۔تاہم وہ شاعری کو پوری فنی رموز کے ساتھ پیش کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔

اس موقعہ سے ایک مشاعرہ کا بھی اہتمام کیا گیا جس میںصاحب کتاب عتیق انظر کے علاوہ پروفیسرشہپر رسول، پروفیسرکوثر مظہری، ڈاکٹر تابش مہدی، ملک زادہ جاوید،احمد علوی، معین شاداب، رحمن مصور، ایم آر قاسمی، خالد مبشر،صبیحہ ناہید،ارشد ندیم، سلمان فیصل، سیف ازہر وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The unveiling ceremony of the book doosra jism at jamia millia islamia in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment