پروفیسر شہپر رسول، سہیل انجم اور ودود ساجد کو استقبالیہ

نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، تحریک فروغ تعلیم اور ماہنامہ صلاح کار کے زیر اہتمام منعقدہ ایک باوقار تقریب میں دہلی اردو اکیڈمی کے نئے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول،اورگورننگ کونسل کے صحافی ارکان جناب سہیل انجم اورایم ودود ساجد کو استقبالیہ دیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ دہلی اردو اکیڈمی کی نئی گورننگ کونسل اکیڈمی کونئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔ صدارتی تقریرمیں ڈاکٹر سید فاروق نے اکیڈمی کے نئے چیرمین اورنئی گورننگ کونسل کو مبارکباد پیش کی اورامید ظاہر کی کہ نئی کونسل ان مقاصدکے حصول میں کامیاب ہوگی جس کے لئے دہلی اردو اکیڈمی کا وجود عمل میں آیا ہے۔
تحریک فروغ تعلیم کے روح رواں، پروگرام کے کنوینر اور بزرگ صحافی سید منصور آغا نے مہمانوں کااستقبال کیا اور کہا کہ پروفیسر شہپر رسول صاحب ایک سنجیدہ اور کام کرنے والی شخصیت کانام ہے۔انہوں نے اس سے قبل اکیڈمی کے رکن کی حیثیت سے قابل قدر کام کیے ہیں ۔ امید ہے کہ نئی ٹیم کے تعاون سے وہ اکیڈمی کو نئی بلندیوں تک پہنچائیں گے، لیکن بہت کچھ دارومدار حکومت کی توجہات پر بھی ہے۔ بروقت بجٹ کا اجرا ءہوتا رہے اورغیرضروری سیاسی مداخلت سے گریز کیا جائے۔ اکیڈمی سیاست دانوں کو پروجیکٹ کرنے کے لئے نہیں، اردو کے فروغ اورقبول عام کے لئے بنی ہے۔ہمیں دہلی سرکار اورخصوصا ڈپٹی چیف منسٹر جناب منیش سسودیا سے توقع ہے کہ جس طرح انہوںنے سیاسی مصلحتوں سے بچ کر محض لیاقت اورکام کی بنیاد اکادمی کی تشکیل کی ہے، اسی طرح دیگرمعاملات میں بھی توجہ دیں گے۔ تعلیم اور فروغ تعلیم کے بارے میں ان کا نظریہ نہایت حقیقت پسندانہ اورانقلابی ہے۔
سید منصور آغا نے گورننگ کونسل کا رکن نامزد کیے جانے اور مولانا محمد علی جوہر ایوارڈبرائے صحافت ملنے پر سہیل انجم کومبارکباد دی اور ان کی تعمیری صحافت کی ستائش کی۔ انھوں نے ودود ساجد کو بھی گورننگ کونسل کی رکن بنائے جانے پر مبارکباد پیش کی اورکہا کہ وہ ایک متحرک صحافی ہیں ، انتظامی امورکا ان کا تجربہ اکیڈمی کو فائدہ پہنچائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ دیگرارکان کو بھی استقبالیہ میں مدعوکریں لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا۔ انہوں نے نئی کونسل کے تمام ارکان کو مبارک با دپیش کی۔
مہمان خصوصی پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ دہلی اردو اکیڈمی پورے ملک میں باوقار اکیڈمی کی حیثیت سے مشہور ہے۔ ہم لوگوں کی کوشش ہوگی کہ اردو والوں نے موجودہ کونسل سے جو امیدیں باندھی ہیں وہ پوری ہوں۔ اکیڈمی کا معیار بلندتر ہو ۔ ہم نے لال قلعہ کے مشاعرے سے اس کا آغاز کر دیا ہے۔ پروفیسر شہپر رسول نے یہ بھی بتایا کہ مشاعرے سے قبل سہیل انجم نے لال قلعہ کے مشاعرے کی تاریخ اور جشن جمہوریہ کے آغاز سے لے کر اب تک کے واقعات پر ایک تفصیلی مضمون قلم بند کیا ہے جو کہ اردو، ہندی اور انگریزی کے اخباروں میں شائع ہوا اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پوسٹ ہوا۔ ہماری کوشش ہوگی کہ ہم بہتر کام کر سکیں۔
سہیل انجم نے تہنیتی جلسہ کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دہلی حکومت نے ہم پرجواعتماد کیا ہے اورجو ذمہ داری سونپی ہے ، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کو پورا کر سکیں۔ پروفیسر شہپر رسول کی قیادت میں اکیڈمی کی سرگرمیاں یقیناتیز ہوں گی اوررکے ہوئے کام پورے ہونگے۔ ودود ساجد نے بھی منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم لوگ بحیثیت صحافی اپنا کام تو کرتے ہی رہتے ہیں اب یہ جو اضافی ذمہ داری ہم لوگوں کو سونپی گئی ہے ہم اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔
جلسہ میںمعروف سماجی کارکن حکیم سید احمد خان، روزنامہ جدید خبر کے مدیر معصوم مرادآبادی، آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ کے نائب صدرجناب عبدالرشید انصاری،جناب کلیم الحفیظ اور مفتی عطاءالرحمن قاسمی نے بھی اظہار خیال کیا اورنومنتحب ٹیم کو دلی مبارکباد پیش کی۔جناب عبد الرشید انصاری نے اردو اساتذہ کی کمی کا شکوہ کیا۔ مسٹرکلیم الحفیظ نے بھی اردو میڈیم اسکولوں کے مسائل کے حل اور اردو اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کی ضرورت پرزوردیاہے۔
اس موقع پر عبد الغفار دانش نورپوری اور متین امروہوی نے تہنیتی قطعات پیش کیے ۔ پروگرام کے آخر میں ایک شعری نشست منعقد ہوئی جس میں پروفیسر شہپر رسول، شکیل جمالی، متین امروہوی، رشید راشد اعظمی، خان رضوان، اختر اعظمی، خالد اخلاق سہسوانی اور حامد علی اختر نے کلام پیش کیا۔ شعری نشست کی نظامت حامد علی اختر نے کی۔ سید منصور آغا نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Tasmia all india educational society felicitates shehpar rasool and suhail anjum in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply