تمل ناڈو کے سیاسی لیڈران کو اسکولوں میں سنسکرت منظور نہیں

چنئی: ملک کے تمام اسکولوں میں تین زبانوں کو لازمی قرار دینے کی مرکزی حکومت کی کوشش تمل ناڈو کے سیاسی لیڈروں کو قطعاً منظور نہیں ہے۔ واضح رہے کہ وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے حال ہی میں ایک اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کے سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای کے تمام اسکولوں میں سنسکرت تیسری زبان کے طور پر دستیاب رہے گی۔ لیکن ایک انگریزی روزنامہ  انڈین ایکسپریس کے مطابق ڈی ایم کے لیڈر کروناندھی نے کہا ہے کہ 2014میں جب سے مودی حکومت بر سر اقتدار آئی ہے اسکولوں میں سنسکرت تھوپی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محض وزارت سطح پر اس اہم قومی معاملہ پر فیصلوں میں غیر ہندی ریاستوں کوبھی شامل کرنا قابل مذمت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اس میں مداخلت کرنا اور لسانی تنوع کا تحفظ یقینی بنانا چاہئے۔پی ایم کے لیڈر انبو مانی نے بھی اس کی مذمت کی ۔ انہوں نے مبینہ طور پرکہا کہ تیسری زبان اختیاری مضمون ہونا چاہئے اور یہ بچوں تک ہی محدود رہنا چاہئے کہ وہ یہ زبان سیکھیں ۔جیسا کہ اب تک رائج رہا ہے۔تمل منیلا کانگریس کے جیکے واسن نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔انہوں نے کہا کہ وزارت کے پاس اس سے بھی سوا دیگر کام ہیں وہ انہیں دیکھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Tamil nadu politicians are against of sanskrit in schools in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply