ہجومی تشدد میں سوامی اگنی ویش زخمی، لباس بھی پھاڑ دیا گیا

نئی دہلی: ادھر مرکز میں ملک کی عدالت عظمیٰ ہجومی تشدد (لنچنگ) کی وارداتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرکزی و ریاستی حکومتوں کو حکم دینے والے اپنے فیصلہ کی نوک پلک درست کر رہی تھی کہ دوسری جانب جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں ہجومی تشدد کی وارداتیں انجام دی جارہی تھیں۔

لیکن اس بار اس میں ایک نیا پن یہ دیکھنے میں آیا کہ گؤ کشی یا بچہ اغوا کرنے کی افواہ پر نہیں بلکہ نیک کام کی دعوت دینے کو بھی نہیں بخشا گیا اور یہ شخصیت معروف آریہ سماجی رہنما، مصلح قوم، سماجی رضا کار، مذہبی رہنما و سیاسی شخصیت یعنی سوامی اگنی ویش ہیں جن پر منگل کے روزبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یووا مورچہ اور پارٹی کے طلبا بازو اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے کارکنوں نے ان پر حملہ کر کے ان کو مبینہ طور پر زدو کوب بھی کیا اور ان کا زعفرانی لباس بھی پھاڑ دیا ۔

ان کے ساتھ یہ مار پیٹ اس وقت کی گئی جب سوامی منگل کے روز لٹا پور ی میں منعقد ایک پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے جھارکھنڈ کے پاکوڑ پہنچے تھے۔ان پر ہندو مخالف بیان دینے کا الزام ہے۔اگر چہ اس حملہ کا محرک واضح نہیں ہے لیکن اگنی وزیش پر الزام ہے کہ وہ اقلیتوں کو اکسا رہے تھے۔

اگنی ویش سخت زخمی حالت میں اسپتال میں داخل ہیں۔ہجومی تشدد کی ایک واردات منگل لے تروز ہی مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی کے دھوپ گوڑی میں بروگھاریہ گرام پنچایت علاقہ میںپیش آئی جہاں خلل دماغ میں مبتلا ایک عورت کو بچہ اغوا کرنے والی عورت کے شبہ میں بری طرح پیٹ کر زخمی کر دیا گیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Swami agnivesh attacked by mob in jharkhand in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply