ستلج جمنا رابطہ نہر تنازع :سپریم کورٹ نے آبی تقسیم معاہدہ کی تنسیخ قانون کالعدم قرار دیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے ستلج جمنا رابطہ (ایس وائی ایل) نہر تنازع کے معاملے میں پنجاب حکومت کو آج زبردست جھٹکا دیتے ہوئے پانی کی تقسیم معاہدے کو منسوخ کرنے سے متعلق ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیا۔
جسٹس انل آر دوے کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ نے ایس وائی ایل نہر تنازع میں صدر کے ریفرنس (پریسڈینشیل ریفرینس ) پر اپنا اہم فیصلہ سناتے ہوئےپانی کی تقسیم سے متعلق ’پنجاب معاہدہ تنسیخ ایکٹ 2004‘ کو غیر آئینی قرار دیا۔ عدالت عظمی نے کہا کہ ہریانہ اور دیگر پڑوسی ریاستوں کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ منسوخ کرنے کے مقصد سے پنجاب حکومت کی طرف سے بنایا گیا قانون غیر آئینی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ متعلقہ نہر کی تعمیر مکمل کی جائے ۔
عدالت نے گذشتہ 12 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ جسٹس دوے 18 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں۔.عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت دیگر ریاستوں کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو یک طرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتی۔ اس وقت امریندر سنگھ حکومت کے دور میں 2004 میں پنجاب اسمبلی نے ٹرمنیشن آف ایگریمنٹ ایکٹ منظور کیا تھا۔ اس نہر کی تعمیر کے حوالے سے پنجاب اور ہریانہ کے درمیان تنازع ہے۔ دراصل اس معاملے میں مرکزی حکومت نے یہ کہہ کر خود کو غیر جانبدار رکھا تھا کہ ریاستوں کو اپنے تنازعات خود طے کرنے چاہئیں۔
اس معاملے میں ہریانہ حکومت کے علاوہ راجستھان، دہلی اور جموں و کشمیر حکومت نے بھی اپنا موقف رکھا تھا، کیونکہ اس نہر کے پانی کو لے کر ان تمام ریاستوں میں معاہدہ ہوا تھا۔ واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی (ایس وائی ایل نہر کے لئے لی کی گئی زمین کو کسانوں کو لوٹانے کا قانون منظور کر چکی ہے۔ اس کے خلاف ہریانہ حکومت نے عدالت عظمیٰ میں فریاد کی تھی جس پر عدالت نے صورت حال جوں کی توں برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sutlej yamuna link canal supreme court rules against punjab in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply