اگر سپریم کورٹ نے وعدے کے مطابق 3مئی کو اترااکھنڈ پر فیصلہ سنادیا تو ایک نئی تاریخ مرتب ہوگی

نئی دہلی: اگر سپریم کورٹ نے بدھ کے روزکیے گئے اپنے وعدے کو پورا کر دیا تو اس فیصلے کو سپریم کورٹ کا کسی ریاست میں صدر راج کے نفاذ کے حوالے سے اس کے کیے گئے فیصلوں میں تیز ترین فیصلہ ہوگا۔دیپک مشرا اور ایس کے سنگھ پر مشتمل بنچ نے اتراکھنڈ معاملہ کی سماعت مکمل کر نے کے لیے 11روز کی مدت مقرر کیا ہے جس میں آئینی ضابطوں ، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر غور اور پھر فیصلہ دیناشامل ہے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی کو اپنے دلائل مکمل کرنے کے لیے محض7گھنٹے کی مہلت دی گئی جن پر 3مئی کو بحث ہوگی جو اگلی سہ پہر تک سنی جائے گی ۔ اسی طرح سینئیر وکیلوں اے ایم سنگھوی اور کپل سبل کو بھی 5مئی تک اپنے دلائل سات گھنٹے میں مکمل کرنے کی مہلت دی گئی۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ دونوں کے دلائل سننے کے بعد موسم گرما کی تعطیلات شروع ہونے سے پہلے ہی 13مئی کو وہ اپنا فیصلہ سنادے گی۔ یہ فیصلہ اگر 13مئی کو ہو جاتا ہے تو آرٹیکل 356کے تحت کرناٹک میں ایس آر بومئی حکومت اور میگھالیہ ، راجستھان اور ہماچل پردیش حکومتوں میں صدر راج کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں کے مقابلہ نہایت سرعت سے کیا گیا فیصلہ ہوگا ۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز سہپریم کورٹ نے اترا کھنڈ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فی الحال صوبہ میں صدر راج نافذ رہے گا۔ عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ بھی دیا کہ 29اپریل کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا عمل بھی نہیں ہوگا۔اپنا حکم جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت 3مئی تک موخر کر دی اور کہا کہ اس وقت تک صورت حال جوں کی توں رہے گی۔ البتہ عدالت نے مرکز سے سات سوال بھی پوچھے تھے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Supreme courts uttarakhand ruling will be swiftest in history in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply