طلاق ثلاثہ معاملہ کی سماعت مکمل، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے تین طلاق پر تمام فریقوں کی دلیل پوری ہونے کے بعد آج اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی جسٹس کوریان جوزف، جسٹس آر ایف نریمان، جسٹس یو یو للت اور جسٹس عبد النذیر پر مشتمل پانچ ججی آئینی بنچ 11 مئی سے روزانہ اس معاملے کی سماعت کر رہی تھی۔
طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر سماعت آج مکمل ہونے کے بعد بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے گزشتہ پیر کے روز سماعت کے دوران دلیل دی تھی کہ اگر عدالت عظمیٰ تین طلاق کے رواج کو ختم کر تی ہے تو حکومت تین طلاق اور مسلمانوں کی شادی سے متعلق امور کو سیکولر نقطہ نظر سے منضبط کرنے کے لئے قانون بنانے کو تیار ہے۔ اس معاملے میں اصل درخواست دہندہ سائرہ بانو کی جانب سے آج امت چڈھا نے آئینی بنچ کے سامنے اپنی دلیل پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں تین طلاق گناہ ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے منگل کو سینئر وکیل کپّل سبل نے تین طلاق کو 1400 سال پرانا رواج اور عقیدے (آستھا) کا معاملہ قرار دیا تھا۔ اس معاملہ کی سماعت یوں بھی کافی اہم سمجھی جا رہی تھی کیونکہ سپریم کورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات چل رہی ہیں۔

Title: supreme court reserves verdict on triple talaq in Urdu | In Category: ہندوستان  ( india ) Urdu News

Leave a Reply