سپریم کورٹ نے کاویری دریا سے تمل ناڈو کا پانی کم کر کے کرناٹک کا بڑھا دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جنوبی ہند کی تین ریاستوں تمل ناڈو ، کرناٹک اور کیرل کے درمیان آبی تنازعہ پر جمعہ کو اپنا فیصلہ سنا دیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کی زیر سربراہی جسٹس امیتورائے اور جسٹس اے ایم کھانویلکر پر مشتمل ایک اسپیشل بنچ نے ان تینوں ریاستوں کے درمیان دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے کاویری واٹرز ٹریبونل کے2007کے حتمی فیصلہ کے خلاف ان تینوں ریاستوں کی اپیل پرفیصلہ سناتے ہوئے اس دریائی پانی میں تمل ناڈو کے حصہ کو14.75 ٹی ایم سی فٹ کم کردیا جس کا فائدہ کرناٹک کو پہنچے گا۔
اس ضمن میں بنچ نے کہا کہ کرناٹک کا حصہ اس پہلو کو دیکھ کر بڑھایا جا رہا ہے کیونکہ گذشتہ دنوں بنگلور مٰں پینے کے پانی کی طلب بڑھی ہے نیز صنعتی علاقوں میں بھی پانی کی کھپت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
علاوہ ازیں بنچ نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس دریا پر کسی ایک ریاست کا حق نہیں ہے۔جس پر تمل ناڈ کی پیروی کرنے والے وکیل اینکرشنا نے کہا کہ وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں لیکن یہ کہنے میں انہیں کوئی عار نہیں ہے کہتمل ناڈو کو پانی کی جو مقدار دی گئی ہے وہ اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Supreme court reduces tamil nadus allocation of cauvery water in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply