غیر تدریسی شخصیت کو مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کرنے پر سپریم کورٹ کا اعتراض

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے غیر تعلیمی شعبے کے کسی شخص کو ممتاز ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا وائس چانسلر مقرر کرنے پرکئی سوال کھڑے کئے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے ایم کھانولکر کی بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ اے ایم یو مرکزی یونیورسٹی ہے اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) کے قاعدے قانون اس پر لازمی طور پر لاگو ہوتے ہیں۔
وائس چانسلر کو ماہر تعلیم ہونا چاہئے اور اس عہدے پر فائز ہونے والے شخص کو کسی یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کے طور پر کم از کم 10 سال کا تجربہ ہونا چاہئے۔ کورٹ نے کہا کہ جب تمام مرکزی یونیورسٹی اس اصول پر عمل کر رہی ہیں تو اے ایم یو کیوں نہیں؟ ایک فوجی افسر کو مقرر کیوں کیا گیا۔ ہم ان کی کارکردگی پر سوال نہیں کھڑے کر رہے ہیں، بلکہ ہم یو جی سی کے طے قوانین کے تحت ان کی تقرری پر سوال کھڑے کر رہے ہیں
۔ درخواست گزار سید ابرار احمد کی جانب سے مسٹر پرشانت بھوشن نے اور اے ایم یو کی جانب سے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے پیروی کی۔ معاملے کی اگلی سماعت 26 ستمبر کو ہوگی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Supreme court questions appointment of aligharh muslim university vc in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply