سپریم کورٹ نے قومی یوگا پالیسی وضع کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ملک میں پہلے سے آٹھویں درجہ تک کے طالب علموں کے لئے یوگاکی تعلیم لازمی کرنے کے سلسلے میں قومی یوگا پالیسی تیار کرنے کی عرضی پر تین ماہ میں یہ فیصلہ کرے کہ وہ یوگا کو لازمی قرار دینا چاہتی ہے یا نہیں۔
جسٹس مدن بی لوکر کی صدارت والی بنچ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بی جے پی کے ترجمان اشونی کمار اپادھیائے اور جے سی سیٹھ کی عرضیوں کو ان کی نمائندگی کے طور پر غور کرے۔ مسٹر اپادھیائے نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت، این سی ای آر ٹی، نیشنل ٹیچر ٹریننگ کاونسل اور سنٹرل سیکنڈری ایجوکیشن بورڈ کو پہلی سے آٹھویں درجہ کے طلبہ کے لئے یوگا اور ہیلتھ ایجوکیشن کی نصابی کتاب جاری کرنے کا حکم دے۔
عرضی گذاروں کا کہنا ہے کہ صحت کا حق آئین کی دفعہ 21کے تحت جینے کا بنیادی حق کا حصہ ہے۔ فلاحی ریاستی کے نظریہ کے تحت حکومت پر تمام شہریوں بالخصوص بچوں او رنوعمروں کو صحت سہولیات فراہم کرانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عوام کے بہتر صحت کے لئے قدم اٹھانا حکومت کی ذمہ داری ہے عرضی گذاروں کا کہنا ہے کہ تمام بچوں کو یوگا او رہیلتھ ایجوکیشن فراہم کئے بغیر یا یوگا پالیسی بنائے بغیر صحت کا حق نہیں دلایا جاسکتا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Supreme court asks centre to take a decision on framing national yoga policy in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply