دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی گرفتاری کے واقعات پر جمہوریت نوازوں کو آواز اٹھانی چاہئے :ہریش کھرے

نئی دہلی:دہلی میں گزشتہ چند ماہ میں جس طرح سے اور جن الزامات میں عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کی گرفتاری ہوئی ہے، اس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ۔
مرکزی حکومت کے ماتحت دہلی پولیس نے معمولی شکایات پر بھی ممبران اسمبلی کو گرفتار کرنے میں جس طرح کی تیزی دکھائی اس پر مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی پر جس طرح کے الزامات ہیں اسی طرح کے بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ سنگین الزام بی جے پی کے کچھ ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی پر لگے ہیں، اے ڈی آر کی رپورٹ کا ثبوت ہے لیکن ان لوگوں کی تو گرفتاری نہیں ہوئی۔
عام آدمی پارٹی کے حق میں انگریزی اخبار دی ٹریبیون کے ایڈیٹر ان چیف ڈاکٹر ہریش کھرے نے آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت ہی غلط اور غیر اخلاقی ہے اور جمہوریت کے ہر حامی کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے. تاہم ڈاکٹر ہریش کھرے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ عام آدمی پارٹی کے حامی یا پرستار نہیں ہیں.ڈاکٹر ہریش کھرے کے اس مضمون کو دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی ٹویٹ کیا ہے۔
اس مضمون میں ڈاکٹر ہریش کھرے نے لکھا ہے کہ ‘میں عام آدمی پارٹی کا پیروکار نہیں ہوں، میں اروند کیجریوال کی مسلسل مخالفت اور جنگ کی سیاست کی بھی حمایت نہیں کرتا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس پارٹی کے ساتھ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے، باقی کی تمام پارٹیاں مل کرکجریوال اور ان کی پارٹی کے خلاف گروہ بندی کر رہی ہیں۔مسٹر ہریش کھرے لکھتے ہیں کہ جس طریقے سے بی جے پی، اکالی دل اور کانگریس نے بھگوت مان کے مسئلے کو لے کر یکجہتی دکھائی اور ان کے خلاف مورچہ کھولا ہے وہ بہت ہی غلط ہے۔
بھگوت مان نے پارلیمنٹ کی ویڈیوگرافی کی، یہ اچھانہیں تھا۔، لیکن ذرا ان باتوں پر بھی غور کیجئے جو تکنیک کی وجہ آج بہت آسان ہو گئی ہیں۔آج گوگل میپ کا دور ہے، اس کے ذریعے کوئی بھی کہیں کی بھی تصاویر آسانی سے لے سکتے ہیں، ہماری پارلیمنٹ اس سے الگ نہیں۔ہریش کھرے لکھتے ہیں کہ کسی بھی عمارت کی حفاظت کا مسئلہ ان لوگوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی، ان کے رفللیکسزپر انحصار کرتا ہے جو کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔
وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ تینوں قائم پارٹیاں عام آدمی پارٹیسے اس لئے دشمنی محسوس کرتی ہیں کیونکہ عام آدمی پارٹی کو دیہی پنجاب میں بہت ہی زیادہ پسند کیا جا رہا ہے۔تینوں پارٹیاں کیجری وال کی پارٹی کو اس لئے نہیں روک پا رہی ہیں کیونکہ یہ پارٹی خود کو بدعنوانی مخالف کہتی ہے اور اس بات کو کاٹنے کا اس کے مخالفین کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Stop being silent over aam admi party mlas arrests in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply