مودی حکومت حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیتی تو پارلیمنٹ میں تالہ ڈال کر ہمیں گھر بھیج دیا جائے:سونیا گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے بی جے پی قیادت والی این ڈی اے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حزب اختلاف کی آواز کو کچلا جا رہا ہے۔
ہماری آزادی خطرہ میں ہے ۔آج ہم ایک رجعت پسند نظریہ کو گلے لگا رہے ہیں۔ سونیا گاندھی نے ان خیالات کا اظہار انڈیا ٹوڈے کانفرنس 2018میں اپنی تقریر میں کیا۔بڑھتی عدم رواداری پر بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس لیڈرنے کہا کہ آج ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول ہے۔
اس کے خلاف اٹھائی جانے والی ہر آواز کچل دی جا رہی ہے۔ مذہبی کشیدگی و تشدد عروج پر ہے اور اس کی آگ کو اور دہکایا جا رہا ہے۔سرکاری سرپرستی اور پشت پناہی میں دلتوں اور خواتین پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ انتخابات جیتنے کے لیے معاشرے میں صف بندی کرائی جارہی ہے۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ آج ملک میں زبردست اتھل پتھل مچی ہوئی ہے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت اپنی زبردست اکثریت کو حزب اختلاف کی آواز دنبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اگر ہمیں پارلیمنٹ میں نہیں بولنے دیا جاتا تو پارلیمنٹ کویں لگائی جارہی ہے وہاں تالہ ڈال دیا جائے تاکہ ہم سب گھر جا سکیں ۔انہوں نے کہا کہ باجپئی جی کے دور میں حزب اختلاف کی عزت کی جاتی تھی لیکن اس بی جے پی حکومت میں حزب اختلاف کا کوئی احترام یا وقعت نہیں ہے۔انہوں عدلیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا عدلیہ افراتفری کا شکار ہے ۔قانون حق اطلاعات شفافیت لانے کے لیے ہی بنایا گیا تھا لیکن آج قانون سد خانے میں پڑاہے۔آدھار کو ذاتی زندگی میں مداخلت کے ہتھیار میں تبدیل کیا جارہا ہے۔
انہوں نے اقتصادی محاذ پر کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بی جے پی کے دعوے پر کہا کہ کیا26مئی 2014سے پہلے ہندوستان کیا واقعی ایک بلیک ہول تھا۔کیا ہندوستان نے ترقی، خوشحالی اور عظمت کی جانب صرف چار سال پہلے ہی قدم بڑھائے ہیں۔کیا یہ دعویٰ ہندوستانیوں کی قابلیت، صلاحیت و اہلیت کی توہین نہیں ہے۔2004میں کانگریس کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ملک کی قیادت میں ان کے اپنے رول کے حوالے سے معلوم کیے جانے پر انہوں نے کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ ڈاکٹ منموہن سنگھ ان سے بہتر وزیر اعظم ثابت ہوں گے۔
اور یہ کہ وہ اپنی حدد سے واقف تھیں۔یہ معلوم کیے جانے پر کہ کیا وہ 2019کے عام انتخابات میں کیا وہ رائے بریلی سے انتخاب لڑیں گی انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ان کے بارے میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ اس کی پابند رہیں گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل کانگریس کے صدر ہیں ۔میرے انتخاب لڑنے نہ لڑنے کا فیصلہ وہی کریں گے۔ کیونکہ انہوں نے پارٹی کے تمام فیصلے راہل گاندھی پر ہی چھوڑ دیے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت ہو گی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sonia gandhi tears into modi govt says nation led by regressive vision in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply