بیٹے کو والدین کے مکان میں رہنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں:دہلی ہائی کورٹ

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ کسی بیٹے کو خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اپنے والدین کے مکان میں رہنے کا قانونی حق حاصل نہیں ہے وہ صرف ان کے رحم و کرم پر ہی ان کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر والدین بیٹے سے خوشگوار تعلقات ہونے کے باعث اسے اپنے ساتھ رکھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ زندگی بھر اس کا بوجھ برداشت کرتے رہیںگے۔
جسٹس پرتبھا رانی نے ایک فیصلہ میں کہا کہ جو مکان والدین نے اپنی کمائی سے بنایا ہے ،اس میں کوئی بیٹا خواہ وہ شادی شدہ ہو یا کنوارہ اس مکان میں رہنے کا اسے کوئی حق حاصل نہیں ہے اور وہ صرف اپنے والدین کے رحم و کرم پر اس وقت اس مکان میں رہ سکتا ہے جب تک اس کے والدین راضی ہیں۔
جسٹس پرتبھا نے یہ فیصلہ اس عذر داری پر دیا جس میں ایک شخص اور اس کی بیوی نے نچلی عدالت کے اس فیصلہ کو چیلنج کیاتھا جو اس نے ان کے والدین کے حق میں کیا تھا۔ والدین نے ایک کیس ڈال کر عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ ان کے بیٹے اور بہو کو گھر کی وہ منزلیں خالی کرنے کا حکم دے جن پر وہ قابض ہیں۔

Title: son has no legal right in parents house can stay at their mercy delhi high court | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply