نا سک کی عدالت نے تین دلتوں کے قتل کیس میں6کو مجرم قرار دیا

ناسک: ناسک کی ایک مقامی عدالت نے احمد نگر میں 2013کی سونائی قتل کیس میں، جس میں تین دلتوں کو بے رحمی سے قتل کر کے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ایک پانی کی ٹنکی میں ڈال دیا گیا تھا، چھ ملزموں کو مجرم قرار دے دیا۔ عدالت سزا18جنوری کو سنائے گی۔7میں سے چھ ملزموں کو 24سالہ سچن گھروِ،25سالہ سندیپ تھنور اور 20سالہ راہل کنڈارے کے قتل کیس میں قتل اور مجرمانہ سازش سمیت کئی معاملات میں مجرم قرار دیاگیا ۔
ان تینوں کا تعلق پسماندہ ذات مہتر طبقہ سے تھا۔خصوصی سرکاری وکیل اجول نکم نے بتایا کہ ساتویں ملزمکو اس لیے بری قرار دیا گیا کیونکہ استغاثہ کی جانب سے اس کے خلاف مجرمانہ سازش کا کوئی ٹھوس ثبوت نہ پیش نہیں کیا جاسکا تھا۔ناموس کے نام پر کیا جانے والا یہ سفاکانہ قتل ایک مراٹھا خاندان کی لڑکی سے سچن گھرو کے عشق ہوجانے کی خبر ملنے پر کیے گئے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق سچن اور اس کے ساتھیوں کو اس مراٹھا خاندان نے یکم جنوری 2013کوپانی کی ٹنکی صاف کرنے بلایا تھا۔اور جب یہ نوجوان گھر نہیں پہنچے تو ان کی تلاش شروع ہوئی اور پولس نے سچن کی مسخ شدہ لاش اس وقت برآمد کر لی جب 2جنوری کی شام میں اس کے جسم کے اعضاءکٹ کٹ کر ٹنکی سے باہر نکلنے لگے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Six convicted in 2013 sonai honour killings case in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply