سابق مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر کے خلاف سکھ مخالف مقدمات پھر کھلیں گے

نئی دہلی:مرکزی وزارت داخلہ کی تشکیل کردہ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم دہلی اور کچھ دیگر ریاستوں میں ہونے والے1984کے سکھ کش فسادات کے معاملے میں سینئر کانگریسی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر سمیت کئی افراد کے خلاف دوبارہ مقدمہ دائرکرنے والی ہے ۔
مرکز نے یہ فیصلہ عین اس وقت کیا ہے جب پنجاب میں اسمبلی انتخابات ہوا ہی چاہتے ہیں۔31 اکتوبر1984کو اس وقت کی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کے سکھ باڈی گارڈز کے ہاتھوں قتل کے بعد ہونے والے ہولناک فسادات میں تقریبا تین ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو گئے تھے۔
صرف دہلی میں ہی 2733سکھوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق خصوصی تفتیشی ٹیم اس معاملے میں 84 کے فسادات سے متاثر سکھوں کو انصاف دلانے کے لئے مسٹر ٹائٹلر اور کچھ دوسرے لوگوں کے خلاف پھر سے مقدمہ شروع کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ متاثرین کی عدم دستیابی یا ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر دہلی میں سکھ مخالف237مقدمات بند کرنا پڑے تھے۔لیکن ایس آئی ٹی نے دستاویزات اور متعلقہ فائلوں کا اب تک کیے گئے مطالعہ کے بعد 75کیس پھر کھولنے کا فیصلہ کیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sit to reopen anti sikh riots cases in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply