ہزار ، پانچ سو کے نوٹ بند ہونے سے اتر پردیش کے سیاسی لیڈر حواس باختہ

لکھنؤ:وزیر اعظم نریندر مودی کے بڑے نوٹ بند کرنے کے اچانک فیصلے سے اترپردیش اسمبلی انتخابات کی تیاری میں مصروف لیڈروں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات چار مہینہ میں ہونے ہیں، اور اس کی تیاری میں ممکنہ امیدواروں کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیاں پوری طاقت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔
ایسے میں پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ اچانک بند کر دیے جانے سے انتخابات کی تیاری میں لگے لیڈروں کے ہوش اڑ گئے۔ لکھنؤ کے لوہیا پارک میں صبح ٹہلنے والے ایک لیڈر نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر کہا کہ وزیر اعظم کا یہ فیصلہ غیر عملی ہے۔ نوٹوں کے چلن کو بند کرنے سے پہلے ایک الارم دینا چاہئے تھا۔
نوٹ بند کرنے کی تاریخ کا اعلان ہونے پر لوگ اپنی ضرورت کا سامان تو خرید لیتے۔ان کا کہنا تھا کہمیرے انتخابی حلقے میں کئی شادیاں ہیں، ایسے میں اس فیصلے سے شادیوں کے بھی انتظام متاثر ہو رہے ہیں۔ سبزی کا انتظام کیسے ہو۔
شادی کے لئے دیگر ضروری سامان کس طرح خریدے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن بعد دو ہزار اور اس کے کچھ دن بعد چار ہزار روپے نکالنے سے کس طرح کام چلے گا۔ یہ فیصلہ مسٹر مودی کے آمرانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Scrapping of rs 500 rs 1000 notes what leaders are saying in up in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply