اختلاف رائے جمہوریت کا دریچہ تحفظ ہے: حقوق انسانی کارکنوں کی گرفتاری پر سپریم کورٹ کا مشاہدہ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بھیما کورے گاؤں تشدد معاملہ میں گرفتار کیے گئے پانچ انسانی حقوق کارکنوں کو 6ستمبر تک خانہ نظربند رکھنے کا حکم دیا ہے ۔عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد اب پولس انہیں حوالات یا جیل نہیں پہنچا سکتی۔

بلکہ وہ اب اپنے گھر میں قید رہیں گے۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل تین ججی بنچ نے پانچوں ملزمان سدھا بھاردواج، گوتم نولکھا، ارون فریرا، وی گونجالویز اور پی ورورا راؤ کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا سیفٹی والو (آلہ تحفظ)ہے۔

اگر بہت زیادہ دباؤ کے وقت وہ حفاظتی دریچہ نہ کھولا گیا تو دھماکہ ہو سکتا ہے۔کورٹ نے تاریخ داںرومیلا تھاپر، دیوکی جین، پربھات پٹنائک، ستیش دیش پانڈے اور ماجہ داروالا کی ایک مشترکہ عرضی پر فوری سماعت کرتے ہوئیے مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کر کے پانچ ستمبر تک جوابی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت د ے کر سماعت 6 ستمبر تک موخر کردی۔

پولس نے ان لوگوں کےءخلاف جو ایف آئی آر تیار کی ہے اس میں انہیں ماؤ باغیوں کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے ان کارکنوں کی اشتعال انگیز تقاریر ہی وسیع پیمانے پر تشدد کا باعث بنی تھیں۔واضح ہو کہ 31دسمبر 2017کو مہاراشٹر کے شہر پونے میں پسماندہ دلت قوم کے لوگوں نے 200سال سے زائد اس پرانی جنگ کی یاد میں، جس میں ندلت فوج نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں پر مشتمل فوج کو شکست دی تھی، ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔

جس کی اونچی ذات کے ہندوؤں ے مخالفت کی اور فساد ہو گیا۔پولس کا کہنا ہے کہ دلتوں کی آڑ میں در اصل یہ پروگرام ماؤ نوازوں نے کرایا تھا۔اور تحقیقات کے دوران پولس کو ایک مکتوب بھی ملا تھا جس میں آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے طرز پر موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ فرد نویس کو ہلاک کرنے کی منصوبہ سازی کی گئی تھی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc says dissent is safety valve of democracy in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply