سپریم کورٹ کا بڑے نوٹ بند کرنے کے مرکز کے فیصلہ پر حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں پر پابندی کے معاملے میں مرکزی حکومت کو بڑی راحت دیتے ہوئے فیصلے اسٹے دینے سے انکار کر دیا۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے نوٹوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف چار مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکز کے فیصلے پر یہ کہتے ہوئے روک لگانے سے انکار کر دیا کہ وہ اقتصادی امور میں مداخلت نہیں کرے گی۔
تاہم عدالت نے اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے ذریعے مرکزی حکومت کو سماعت کی اگلی تاریخ 25 نومبر تک یہ بتانے کی ہدایت دی کہ وہ (حکومت)اس سے لوگوں کو ہونے والی مشکلات سے نمٹنے کے لئے کیا کر رہی ہے؟کیس کی سماعت کے دوران مسٹر روہتگی نے کہا کہ حکومت نے کالے دھن پر سرجیکل اسٹرائک کیا ہے جس سے نہ صرف ملک میں چھپا کالا دھن باہر آئے گا بلکہ ایسی دولت کے دہشت گردوں کی طرف سے استعمال پر روک لگے گی۔
انہوں نے دلیل دی کہ کالا دھن ملک اور اس کی معیشت کو تہس نہس کر رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں مختلف بینکوں میں تین لاکھ کروڑ روپے جمع ہوئے ہیں اور ایسی امید کی جا رہی ہے کہ 30 دسمبر تک 11 لاکھ کروڑ روپے جمع ہوں گے۔ عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے پیروی کی۔ مسٹر سبل نے ریزرو بینک آف انڈیا ایکٹ کے تحت مرکزی حکومت کے اس فیصلے کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے ملک میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ وہ حکومت کے اقتصادی معاملات میں دخل نہیں دے گی، لیکن اس سے لوگوں کو ہونے والی مشکلات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیگی۔ جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ بینکوں اور ڈاک خانوں کے باہر لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔
عام آدمی کئی طرح کی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ ایسی صورت میں مرکزی حکومت 25 نومبر تک یہ حلف نامہ دائر کرے کہ وہ شہریوں کی سہولت کے لئے کیا قدم اٹھا رہی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc refuses to stay govts demonetisation notification in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply