بنگال میں تحویل اراضی کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے کر کسانوں کی زمین واپس کرنے کا حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ٹاٹا موٹر کے نینو کار پروجیکٹ کے لئے مغربی بنگال کے سنگور میں بایاں محاذ کی سابقہ حکومت کے ذریعہ تقریبا ایک ہزار ایکڑ اراضی کی تحویل کے فیصلے کو آج مسترد کر دیا۔
جسٹس وی گوپال گوڑا اور جسٹس ارون کمار مشرا پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کو یہ حکم دیا کہ وہ زمین کو اپنے قبضے میں لے کر اس متعلقہ کسانوں کو لوٹا دے۔ کورٹ نے کسانوں کو زمین لوٹانے کے لئے حکومت کو 12 ہفتے کا وقت دیا ہے۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ جن کسانوں نے زمین کا معاوضہ لے لیا تھا، وہ رقم نہیں لوٹائیں گے کیونکہ گزشتہ 10 سال میں متعلقہ زمین کے حصول کی وجہ سے ان کی روزی روٹی تباہ ہو گئی تھی۔ بنچ نے اس وقت کی بدھا دیو بھٹاچاریہ حکومت پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
کورٹ نے کہاکہ نجی کمپنی کے لئے زمین حاصل کرنا مفاد عامہ کا فیصلہ نہیں ہوتا اور ریاستی حکومت نے اس معاملے میں صحیح طریقے سے قوانین پر عمل نہیں کیا، اس وجہ سے یہ اراضی تحویل مکمل طور غیر قانونی ہے ۔
عدالت عظمی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس وقت مخالفت کرنے والے کسانوں کی بات تک نہیں سنی اور انہیں اپنی اراضی کا مناسب معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔
ا اس سے پہلے کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال حکومت کے ذریعہ تحویل اراضی کو درست ٹھہرایا تھا، جس کے خلاف کسانوں کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc quashes singur land acquisition in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply