اجودھیا تنازعہ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار،، بابری مسجد کے لیے 5ایکڑ متبادل زمین دینے کا حکم

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اجودھیا میںمتنازعہ مقام پر ایک ٹسٹ کے ذریعہ رام مندر کی تعمیر اوراجودھیا میں ہی اکسی بہترین اور نمایاں مقام پرایک نئی مسجد بنانے کے لیے سنی وقف بورڈ کو م5ایکڑ متبادل زمین دینے کا مرکز کو حکم دیا۔

ایک صدی پرانے ایک ایسے تنازعہ کے تصفیہ کے لیے،جس نے ملک کےسیاسی تانے بانے کا شیرازہ بکھیر دیا تھا،عدالت عظمیٰ کی پانچ ججی بنچ نے صد فیصد اتفاق رائے فیصلہ دیا کہ 2.77ایکڑ وہ متنازعہ زمین جس پر ایک وقت منہدم کی گئی بابری مسجد تھی مرکزی حکومت کے رسیور کی تحویل میں رہے گی اور مندر کی تعمیر کے لیے تین ماہ کے اندر کسی ٹرسٹ کو دے دی جائے گی۔

چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں، جو 17نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں، پانچ ججوں پر مشتمل عدالت عظمیٰ کی بنچ نے مقدمہ کی40روز تک چلی تھکا دینے والی سماعت کے بعد ،جسے ہندوستان عدالتی تاریخ میں دوسری طویل ترین سماعت قراردیا گیا ہے، 5-0سے کیے گئے1045صفحاتی فیصلہ میں کہا کہ ہندوو¿ں کا یہ عقیدہ کہ اس مقام پر بھگوان رام تولد ہوئے تھے غیر متنازعہ ہے۔

عدالت عظمیٰ نے رام مندر کے لیے زمین کسی ٹرسٹ کے حوالے کرنے کا حکم دینے کے ساتھ مرکز اور اترپردیش کی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل جگہ کا بندوبست کرے۔

عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کو یہ حکم بھی دیا کہ ٹرسٹ تین ماہ کے اندر تشکیل دے ۔جسٹس گوگوئی نے اپنی میعاد کے نہایت آخری دور میں تاریخ مکا انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ یہ فیصلہ عقیدے (آستھا) کی بنیا دپر نہیں بلکہ شواہد و قانونی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

بنچ کے دیگر ججوں میں جسٹس دھنند جے یشونت چندر چوڑ، جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبد النذیر تھے۔ بنچ نے شیعہ وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑے کے بھی متنازعہ اراضی پر ملکیت کے دعوے خارج کر دیے۔

فیصلہ میں محکمہ آثار قدیمہ کے حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی خالی پڑی جگہ یا میدان پر نہیں کی گئی تھی بلکہ ایسی ٹھوس شہادت ملی ہے جس سے ثابت ہوتےا ہے کہ متنازعہ اراضی کے نیچے ایک ایسا ڈھانچہ تھا جو کسی مندر کی موجودگی کا یقین دلاتا تھا۔

وہاں نہ ڈھانچہ کی اسلامی جھلک تھی اور نہ ہی ایسی کوئی شے پائی گئی جو اسے کسی دور کی اسلامی عمارت قرار دیتی ہو۔ اور محکمہ آثار قدیمہ کی دریافت کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ مسلم فریق متنازعہ زمین پر اپنا دعویٰ درست ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc paves way for temple at disputed site at ayodhya alternative land for mosque in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.