کشمیر میں غیر مسلموں کو اقلیتی درجہ دینے کے معاملہ کا مرکز تین ماہ میں تصفیہ کر دے: سپریم کورٹ

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں غیر مسلموں کو اقلیت کا درجہ دینے سے متعلق عرضی پر مرکز کو آخری موقع دیتے ہوئے اس سے تین ماہ کے اندر اس پر فیصلہ لینے کے لئے کہا ہے۔ مرکزی حکومت نے چیف جسٹس جے ایس کیہر کی صدارت والی تین رکنی بنچ کے سامنے آج دلیل دی کہ اسے اس معاملے پر ریاستی حکومت اور دیگر فریقین کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے لئے کچھ اور وقت چاہئے۔
ایڈیشنل سالسٹر جنرل تشار مہتہ نے پیشے سے وکیل انکور شرما کی عرضی کی سماعت کے دوران دلیل دی کہ حکومت مختلف سطحوں پر صلاح و مشورہ کررہی ہے اور مفاد عامہ کی عرضی پر اس کے موقف سے عدالت کو آگاہ کرانے کے لئے آٹھ ہفتے کا مزید وقت چاہئے جسے عدالت نے تسلیم کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو تین ماہ کا وقت دیا۔
بنچ کے دو دیگر اراکین میں جسٹس آدرش کمار گویل اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ شامل ہیں۔ مسٹر شرما نے اپنی عرضی میں عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں غیر مسلمو ں کو اقلیت کا درجہ دے جس سے وہ حکومت کے مختلف منصوبوں کا فائدہ اٹھاسکیں۔ ان کی دلیل ہے کہ مرکزی حکومت ریاست میں اقلیتوں کے نام پر کئی منصوبے چلا رہی ہے جس کا فائدہ وہاں کے مسلمان اٹھارہے ہیں جب کہ وہاں وہ اکثریت میں ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc gives 3 months to jammu and kashmir govt to decide on minority status for non muslims in state in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply