سپریم کورٹ نے لاعلاج ہوجانے کی صور ت میں مریض کی ’رحمانہ ہلاکت‘کی اجازت دے دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آسان اور عزت کی موت کو ایک بنیادی قرار دیتے ہوئے جمعہ کے روز اپنے ایک تاریخی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایسے مریضوں پر ’رحم‘ کرنے کے لیے غیر فعال رحمانہ قتل کی اجازت دے دی جو دیگر الفاظ میں کوما میں ہوں یا ایسی حالت میںہو کہ اسے نہ زندوں میں شمار کیا جاسکے نہ بے جان جسم قرار دیا جاسکتا ہو۔
اس کے لئے بہرحال کچھ اصول اور طریقے مرتب کئے گئے ہیں۔چیف جسٹس آف انڈیا دیپک کمار مشرا ، جسٹس اے کے سیکری ، جسٹس اے ایم کھانڈویلکر ، جسٹس ڈی وائی چندرچون اور جسٹس اشوک بھان پر مشتمل ایک آئینی بنچ نے یہ فیصلہ2005میں کام کاج نام کی ایک این جی او کی جانب سے دائر کی گئی عذر داری پر سماعت کرتے ہوئے سنایا۔
مدعی کی جانب سے پیش ہونے والے معروف وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی تھی کہ کسی طبی ماہر کی رائے مین اگر کسی مریض کے صحتیاب ہونے کے تمام امکانات معدوم ہو چکے ہوں اور مریض کو موت سے نہیں بچایا جا سکتا تو اس مریض کو مصنوعی سانس دلانے والی مشین ہٹا لینے کی اجازت دی جانا چاہیے ۔

Title: sc allows passive euthanasia | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply