مجھے میری آزادی لوٹائی جائے: نومسلم دولہن ہادیہ کا سپریم کورٹ میں بیان

نئی دہلی: مذہب اسلام قبول کر کے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرکے اپنانام ہادیہ پسند کرنے والی کیرل کی ایک 25سالہ لڑکی نے آج سپریم کورٹ میں لوو جہاد کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ سے کہا کہ وہ آزادی چاہتی ہے اور حکومتی اخراجات پر نہیں بلکہ اپنے موجودہ شوہر کی زیر کفالت رہ کر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس لڑکی سے، جسے اس نے آج عدالت مین پیش کرنے کہا تھا، استفسار کیا کہ وہ کیا چاہتی ہے تواس نے جواب دیا وہ اپنی آزادی چاہتی ہے۔
اور جب عدالت عظمیٰ کی بنچ نے اس سے یہ سوال کیا کہ کیا وہ حکومتی اخراجات پر اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہے گی تو اس نے کہا کہ جب اسکی دیکھ بھال اور کفالت کے لیے اس کا شوہر موجود ہے تو اسے حکومت کے خرچے پرپڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔
ہادیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ گذشتہ11مہینے سے حبس بیجا میں رکھی گئی ہے۔اس کے بعد عدالت نے اس لوو جہاد کیس کی سماعت اگلے سال جنوری کے تیسرے ہفتے تک موخر کر دی۔
واضح رہے کہ اس معاملہ پورے ملک کی اس وقت توجہ کرکوز ہو گئی جب لڑکی کے والدین کی جانب سے اس معاملہ کو یہ کہہ کر عدالت میں لا یا گیا کہ ان کی بیٹی کو جبراً اسلام قبول کرایا گیا ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sc adjourns hearing on love jihad case to continue tomorrow in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply