پنجاب میں آر ایس ایس کارکن قتل کی تحقیقات کرنے والے افسروں کو جان سے مارنے کی دھمکی

نئی دہلی: معتبر ذرائع کے مطابق ہندوستان نے برطانیہ سے کہا ہے کہ پنجاب میں فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے کے لیے آر ایس ایس کارکن کی ہلاکت میں اسکاٹ لینڈ کے شہری کے رول کی تحقیقات کرنے والے پنجاب پولس افسروں کو انہیں اور ان کے گھر والوں کو ٹارگٹ کلنگ کی دھمکی دی گئی ہے۔31سالہ اسکاٹ جگتار سنگھ جوہل کو آر ایس ایس کارکن رویندر گوسائیں کو قتل کرنے کے الزام میں اس کی شادی کے 15روز بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔بعد ازاں تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی کو سونپ دی گئی تھی ۔

ایجنسی نے کہا کہ مسٹر گوسائیں اور8دیگر کو پنجاب کو غیر مستحکم کرنے کی ایک سازش کے جزو کے طور پر 2016-17میں قتل کر دیا گیا تھا۔ایک سینیئر حکومتی افسر نے کہا کہ جوہل کی گرفتاری سے یو کے میں سکھ تنظیموں کی ناراضگی پھیل گئی تھی جس کا اظہار انہوں نے اس سال اپریل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ برطانیہ کے دوران پارلیمنٹ اسکوائر پر احتجاج کر کے کیا تھا۔ جوہل تک یو کے قونصلر کی رسائی نہ ہونے دینے کا معاملہ یو کے پارلیمنٹ میں بھی زور شور سے اٹھایا گیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیر مملکت داخلہ کرن رجیجو نے برطانی کابینہ میں ایک جونیر وزیر سوسن ولیم کی قیادت میں ہندوستان کے دورہ پر آنے والے برطانوی وفد سے کہا ہے کہ جوہل کے لیے تمام قانونی راستے کھلے ہیں اور اس کے وکلاءاس کا کیس لڑ سکتے ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rss activist murder punjab police officers received threats over scotsmans arrest in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
What do you think? Write Your Comment