روہنگیا مہاجرین کی موجودگی ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ: مرکزکا سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل

نئی دہلی:روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں آج ایک حلف نامہ داخل کر کے کہا ہے کہ ان کا غیر قانونی طریقے سے آنا اور رہنا ملک کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ پندرہ صفحات پر مشتمل مرکز کے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 40 ہزار سے زیادہ ہے۔
حلف نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ روہنگیاکے پاکستانی دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہونے کی بھی اطلاعات سیکورٹی اداروں نے دی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا نے اس معاملے کی آئندہ سماعت تین اکتوبر کو طے کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت قانون کے تحت کام کرے گی۔ جج نے درخواست گزار کے وکلاء فالی ایس نریمن اور کپل سبل سے حکومت کے حلف نامہ کی بنیاد پر ہی بات رکھنے کے لئے کہا ہے۔
حلف نامے میں روہنگیا پناہ گزینوں کو کسی بھی صورت میں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے عدالت سے اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ حلف نامے میں حکومت نے واضح طورپرکہا ہے کہ ایسے روہنگیا پناہ گزین جن کے پاس اقوام متحدہ کے دستاویزات نہیں ہیں، انہیں ہر حال میں ملک سے جانا ہوگا۔ مرکز نے کہا ہے کہ روہنگیا دہلی، میواڑ، جموں اور حیدرآباد میں قیام پزیر ہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rohingya presence poses national security threat centre to sc in affidavit in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply