سی بی آئی بوفورس کیس کو سپریم کورٹ میں لے جانے کے لیے حکومت سے اجازت مانگے: ممبران پارلیمنٹ

نئی دہلی : کانگریس کے لئے پریشانی کا سبب بن چکا بوفورس رشوت معاملہ دو عشرے بعد بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے اسے مزید آگے نہیں بڑھانے پر سوال اٹھائے ہیں جس سے لگتا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی) بوفورس سے متعلق مقدمہ کو سپریم کورٹ میں لے جاسکتی ہے۔ کیونکہ ممبران پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ بوفورس توپ مقدمہ، جس میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور کئی اعلیٰ افسروں پر رشوت خوری کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور جسے اس وقت کی بر سر اقتدار کانگریس حکومت نے بند کرا دیا تھا ، دوبارہ کھلوایا جانا چاہئے اور سی بی آئی مرکزی حکومت سے اس معاملہ کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی اجازت مانگے۔
دہلی ہائی کورٹ نے سال 2005میں بوفورس توپ سودے میں رشوت کے کیس کو ٹھوس شواہد کے فقدان میں منسوخ کردیا تھا اور اس کے بعد یہ سرد خانے میں چلا گیا تھا۔ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کے ذریعہ اس پر سوال اٹھائے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی صورت اختیار کرسکتا یہ۔ بوفورس توپ سودے میں رشوت کی وجہ سے 1980کی دہائی میں سیاسی زلزلہ آگیا تھا اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اقتدار سے دست بردار ہونا پڑا تھا۔ ذرائع کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کی بیجو جنتا دل کے رکن بھرت ہری مہتاب کی صدارت والی ذیلی کمیٹی نے حال ہی میں بوفورس معاملے میں سی اے جی کی ایک رپورٹ پر وزارت دفاع کے ذریعہ ایکشن رپورٹ نہیں سونپنے کے سلسلے میں سماعت کی۔
اراکین نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر اور ڈیفنس سکریٹری کے سوالوں کے جواب طلب کئے۔۔ چھ رکنی اس کمیٹی میں بی جے پی کے تین او ر شیو سینا اور انا ڈی ایم کے ایک ایک رکن ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ اراکین نے سی بی آئی کے ڈائریکٹر سے براہ راست سوال پوچھا کہ اس معاملے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Reopen bofors arms case it reflected criminality cbi told by lawmakers in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
Tags: ,

Leave a Reply