پرسنل لامیں اصلاح باہر سے نہیں مسلم معاشرے کے اندر سے ہی ہونی چاہئے: سابق چیف الیکشن کمشنر

نئی دہلی: تین طلاق کے سلسلن میں ملک بھر میں جاری بحث کے درمیان سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اسلام کو جمہوری مذہب بتاتے ہوئے آج کہا کہ مسلمانوں کے پرسنل لا میں کوئی اصلاح باہر سے مسلط نہیں کیاجانا چاہئے بلکہ اس میں مسلم معاشرے کے اندر سے ہی اصلاح ہونی چاہئے۔
یہ بات انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے 96 ویں یوم تاسیس کی تقریب خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب کا افتتاح یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر پروفیسر وید پرکاش نے کیا۔ اس یونیورسٹی سے سوشل مارکیٹنگ کے موضوع پر دنیا میں پہلی بار پی ایچ ڈی کرنے والے جامعہ کے سابق طالب علم مسٹر قریشی نے کہا کہ اسلام جمہوری مذہب ہے اور اس میں عورتوں کو برابری کے جتنے حقوق دیے گئے ہیں اتنے کسی بھی مذہب میں نہیں ہیں. 1400 سال پہلے اسلام نے عورتوں کو جائیداد کا حق دیا جو کسی مذہب میں نہیں دیے گئے۔
مسٹر قریشی نے کہا کہ اسلام نے عورتوں کو اپنی شناخت بنائے رکھنے کا بھی احترام کیا ہے جب کہ دوسرے مذہب میں شادی کے بعد نام تبدیل کرنے کی اجازت ہے، اسلام میں عورت شادی کے بعد بھی اپنا نام برقرار رکھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کے بعد بھی لوگ سوچتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی عورتوں کو دبا کر رکھتے ہیں تو ہمیں اس پر سوچنا چاہئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Reform into personal law should not be from outside says chief election commisioner in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply