بی جے پی نے انقلابی اور عام آدمی پارٹی نے پکوڑابجٹ قرار دیا

نئی دہلی: وزیعر مالیات ارون جیٹلی کے لوک سبھا میں پیش کردہ2018-19بجٹ کی تعریف میں جہاں وزیر اعظم نریندر مودی ، انکے وزیر وں اور بڑے لیڈروںنے زمین آسمان کے قلابے ملادیے وہیں حزب اختلاف نے اس بجٹ کو مختلف عنوانات دیے ۔
وزیر اعظم مودی نے اسے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے، کاشتکاروں اور نوکری پیشہ افراد سمیت سماج کے ہرطبقہ کو راحت بہم پہنچانے والا بجٹ بتایا تو مرکزی وزیر پرکاش جاؤدیکر نے اسے انقلابی بجٹ سے تعبیر کیااور کہاکہ اس بجٹ سے کسان کو اس کا وہ حق ملا ہے جوگذشتہ15سال سے اسے نہیں ملا تھا۔کانگریس نے کہاکہ اس بجٹ میںکئی نیا پن نہیں ہے۔
لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملیکا رجن نے کہا کہ حکومت مستقبل کی اسکیمیں بتارہی ہے جبکہ موجودہ اسکیمیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کا مسئلہ حل نہیںہوسکا ہے ، روزگار نچلی سطح پرچلا گیا ہے کاروباری پریشنا ہیں۔ اس بجٹ میں2019کے لیے کچھ نہیں ہے جبکہ2022کے لیے اعلان کر دیے گئے ۔
ترنمول کانگریس لیڈر دنیش ترودی نے اسے جملہ بجٹ بتایا۔انہوں نے کہا کہ یہ2019کا انتخابی منشور ہے۔انہوں نے کہا کہ ایر انڈیا اور او این جی سی کے بعد اب حکومت ریلوے کوبھی بیچنے جا رہی ہے۔
عام آدمی پارٹی نے اسے پکوڑا بجٹ بتایا۔پارٹی کے لوک سبھا ممبر بھگونت مان نے کہا کہ اس پکوڑابجٹ میں بے روزگاری سے نمٹنے کے لیے کوئی راہ تجویز نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تمام اسکیموںکا اعلان 2022کو مدنظر رکھ کر کیاگیا ہے۔بی جے پی کو کیسے معلوم کہ وہ2022تک اقتدار میں رہے گی۔

Title: reactions to union budget 2018 | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply