ڈی ایس پی تنزیل احمد کے قتل کی اعلیٰ سطحی تفتیش شروع،جامع رپورٹ جلد متوقع:وزیر داخلہ

نئی دہلی:پٹھان کوٹ میں واقع ہندوستانی فضائیہ کے اڈے پر دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل قومی تفتیشی ادارے (این آئی ٹی) کے ڈپٹی پولس سپرنٹنڈنٹ تنزیل احمد کے قتل کے حوالے سے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اتر پردیش مین امن و قانون کی بگڑتی صورت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئےکہا ہے کہ ڈی ا یس پی تنزیل احمد کے قتل کی تفتیش کے لیے افسران بالا کی ایک ٹیم کو مامور کر دیا گیا ہے اور وہ جائے واردات کے معائنہ کے لیے روانہ ہو چکی ہے اور جلد ہی وہ ایک جامع رپورٹ پیش کرے گی ۔انہوں نے لکھنو¿ میں ایک پروگرام کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اتر پردیش میں امن و قانون کی بگڑتی صورت حال پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔اور انہیں امید ہے کہ ریاستی حکومت مجرموں کی لگام کسنے کے اقدامات کرے گی۔ یاد رہے کہ گذشتہ شب اترپردیش کے شہر بجنور کے سیوہارہ تھانہ کے تحت علاقہ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔یہ واردات ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے اس وقت ہوئی جب ڈی سی پی تنزیل اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کر کے اپنے گھر واپس جارہے تھے۔ وہ بجنور ضلع کے ہی سہسپور کے رہائشی تھے۔موصول اطلاع کے مطابق تنزیل احمد اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شرکت کر کے ویگن آر میں واپس آرہے تھے کہ دو پستول برداربائیک سواروں نے ان کی کار کو نشانہ بنا کر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے 25گولیاں چلائیں۔تنزیل احمد کو 12گولیاں لگیں جن میں9جسم کے پار ہو گئیں۔انہیں شدید زخمی حالت میں مرادآباد کے کاسموس اسپتال لے جایا گیا جہاں بے تحاشہ خون بہہ جانے کے باعث ان کی موت ہو گئی۔ ان کی اہلیہ بھی اس فائرنگ میں شدید زخمی ہوگئیں۔ انہیں نوئیڈا کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔ان کی حالت بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ تنزیل احمد کی میت دہلی میں واقع ان کی رہائش گاہ لائی گئی ۔ جہاں ہزاروں سوگواروں کے نے ان کے جنازے میں شرکت کی اور انہیں اوکھلا کے جامعہ نگر قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔یہ واردات سہسپور پولس چوکی سے محض 50میٹر کے فاصلہ پر ہوئی۔ ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ یہ واردات کس نے اور کیوں انجام دی ہے۔ان کے لواحقین سے معلوم ہوا کہ تنزیل احمد تعطیلات گذارنے ہمیشہ بجنور ہی آیا کرتے تھے۔چونکہ وہ پٹھان کوٹ تحقیقاتی ٹیم سے وابستہ تھے اس لیے اس واردات کو اس زاویہ سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تنزیل احمد کے قریبی دوست ذہین اختر نے بتایا کہ تنزیل بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف ) میں تھے اور چھ سال پہلے ڈیوپوٹیشن پر این آئی اے میں آئے تھے اور انہیں پٹھان کوٹ دہشت گردانہ حملہ کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔اسی لیے انہیں انتہا پسندوں نے نشانہ بنا کر ان کو ہلاک کر دیا۔ تنزیل احمد کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی این آئی اے کے ڈی آئی جی بھی بجنور روانہ ہو گئے۔ تنزیل احمد کے بھائی راغب احمدنے بتایا کہ انکے بھائی کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور وہ بہت خوش مزاج و ہنس مکھ تھے۔این آئی اے کے آئی جی سنجے کمار سنگھ نے بتایا کہ تنزیل پر ایک سازش کے تحت حملہ کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اترپردیش کی ایس ٹی ایف، اے ٹی ایف، این آئی اے دہلی اور لکھنو¿ کی مشترکہ ٹیم اس واردات کی تحقیقات میں مصروف ہو گئی ہے۔ میںپولس کے مطابق این آئی اے کے افسر بالا کا قتل سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کیا گیا ہے ۔اور ہر زاویہ سے اس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rajnath singh takes on akhilesh govt over nia dy sps killing in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply