گؤرکشک اور گائیں لے جانے والے دونوں ہی الور سانحہ کے ذمہ دار:ریاستی وزیر داخلہ

جے پور:راجستھان کے وزیر داخلہ گلاب چند کٹاریا نے جہاں ایک طرف گﺅ رکشا کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ الور کے بہروڈمیں دودھ اور کھیتی باڑی کیلئے گائے لے جانے والوں کے ساتھ مار پیٹ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی وہیں یہ کہہ کر بھی چونکا دیاکہ اس معاملہ میں دونوں فریق کی غلطی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں گائے کی اسمگلنگ پر پابندی ہے پھر بھی لوگ باز نہیں آتے دوسری جانب کچھ گؤ رکشک ہیں جو ان کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن قانون ہاتھ میں لینا ٹھیک نہیں۔ واضح رہے کہبہروڈ میں پانچ دن قبل مبینہ طور پر گورکشکوں نے گائے کی نسل کے جانوروں کو لے جا رہے پانچ افراد کو بڑی بے رحمی سےپیٹا تھا۔ زخمی ہونے والوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جن میں سے ایک کی پیر کو موت ہوگئی۔
ہریانہ کے رہائشی یہ پانچوں افراد چھ گاڑیوں میں گائیں لے کر جا رہے تھے۔اسی دوران بہروڈ کے پاس خود کو گﺅ رکشک بتانے والے کچھ افراد نے ان پر حملہ کر دیا۔ان سب کو اس بے رحمی سے مارا پیٹا گیا کہ پہلو خان نام کا ایک شخص شدید زخمی ہو کر دم توڑ گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے 200 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے لیکن کسی کی گرفتاری نہیں کی ہے۔ اس معاملے میں مسٹر کٹاریا نے کہاکہ ریاست میں گائے کو ذبح کرنے سے روکنے کا قانون بنایا گیا ہے اور گائے کی نسل کے جانوروں کی اسمگلنگ روکنے کیلئے کئی چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں لیکن گائے کے اسمگلر پھر بھی بچ نکلتے ہیں۔ کئی گﺅرکشک انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے۔ بہروڈمیں مار پیٹ کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی کر رہی ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rajasthan home minister gulab chand kataria blames victim in alawar incident in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply