پیار و محبت کے رشتے قائم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا : راہل گاندھی

نئی دہلی:اس استدلال کے ساتھ کہ جموں کشمیر میں دس سال کی محنت پر پانی پھر دیا گیاہے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت کو بالواسطہ نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لوگوں کوجوڑنا بہت مشکل اور توڑنا بہت آسان کام ہے اس لئے اس یقین کو متزلزل نہ ہونے دیا جائے کہ پیار و محبت کے رشتے قائم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔جمعیت علما ء ہند کے زیر اہتمام گذشتہ شبیہاں ایک با وقار عید ملن تقریب میں مسٹر گاندھی نے کہاہے کہ یہ ملک سب کا ہے، ہر فرقہ اور ہر مذہب کے ماننے والوں کا ہے ، یہا ں کسی کوکسی طرح کے ڈر اور خوف میں مبتلا نہیں ہوناچاہئے۔
گذشتہ 60برسوں میں پیار اورشتوں کوبنا کر ہی ملک آگے بڑھا ہے۔بصورت دیگر ترقی ناممکن ہے۔انہوں نے بی جے پی کا نام لئے بغیر کہا کہ جو عناصر اسے تسلیم نہیں کرتے ،حقیقت جلد ہی ان کے سامنے آ جائے گی کیونکہ ملک کے 70فی صد لوگ انکے ساتھ نہیں ہیں۔ اس لئے وہ کتنی ہی کوشش کر لیں اس ملک کے رشتوں کونہیں توڑ سکتے اور نہ ہی ہم توڑنے دیں گے۔جمو ں و کشمیر کے حالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ” ہم نے 10سال میں جومحنت کی اس پر 15منٹ میں پانی پھیردیا گیا۔ پچھلے دنوں ارون جیٹلی سے جب کہا تھا کہ کشمیر میں بہت غصہ ہے ، حالات خراب ہو رہے ہیں ، انہیں سنبھالئے تو جیٹلی جی نے جواب دیا کہ آپ کو غلط فہمی ہے کشمیر بالکل پر امن ہے۔ اب وزیر داخلہ فون کر کے کہہ رہے ہیں کہ وادی میں حالات بہت خراب ہیں۔ توخراب توآپ نے ہی کئے ہیں“۔
انہوں نے کہا کہ سخت سے سخت آزمائش میں بھی جمہوریت اور سیکولرازم کی بقا کے لئے کانگریس کوئی بھی قربانی دینے میں پیچھے نہیں رہے گی۔اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں جمعیت علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ قومی یکجہتی ، محبت اور اخوت اس ملک کی اہم اور مضبوط بنیادیں ہیں اوجمعیت علمائہندکا نظریہ بھی اسی تصور پرمبنی ہے۔ جمعیت علماء ہند ابتداءسے آج تک مذہب سے با لا تر ہو کر معاشرے میں انسانیت کی بنیادپر خدمات انجام دیتی چلی آئی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ آزادی کے لئے جب پر امن اور عدم تشدد سے جدوجہد کا اصول طے ہوا تو جمعیت علمائہند کے کارکنان نے کانگریس لیڈروں کے ساتھ شانہ بشانہ ہی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر تحریک آزادی میں حصہ لیا جیلوں میں قیدبامشقت کی زندگی گزاری۔تمام طبقات کے درمیان قربت اور محبت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج فرقہ پرست ذہنیت کوجیسی چھوٹ اور آزادی ملی ہوئی ہے اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔
مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیت علماءہند ملک کی سا لمیت اور امن وامان کے لئے آج بھی تمام طبقات کے درمیان قربت اور محبت کو سب سے زیادہ ضروری سمجھتی ہے بلکہ کل کے مقابلہ میں آج اس کی زیادہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کیونکہ بدقسمتی سے آج فرقہ پرست ذہنیت کوجیسی چھوٹ اور آزادی ملی ہوئی ہے اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔اقلیتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی بات کہنا اور گھرواپسی کا پروگرام بنانا جمہوریت و سیکولرزم کا مذاق اڑانا ہے جہاں ایک طرف ارباب اقتدار کی خاموشی مایوسی کوپیداکرتی ہے وہیں جمعیت علماءہند کی طرف سے عیدملن کی اس تقریب میں آپ لوگوں نے شرکت کر کے ہمارے سرکو اونچاکیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ قدم گنگاجمنی تہذیب کی بقاء اور عام ہندوستانی کے دل کی آواز کو سہارا دینے اورفرقہ پرست نظریات کو مسترد کرنے کیلئے ہے۔
متحدہ جنتادل کے سابق صدر شرد یادونے کہا کہ ملک کے بس ایک تہائی لوگ بی جے پی یا این ڈی اے کے ساتھ ہیں لیکن باقی تمام بکھرے ہوئے ہیں۔ایسے میں جوماحول ہے اس میں سنجیدہ لوگوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں کشمیر کے عوام نے کس اعتماد کے ساتھ جمہوری عمل میں شرکت کی تھی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نتیجہ کیا نکلا!۔ شرد یادونے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کسی بھی اہم ایشو پر بحث نہیں ہو رہی ہے۔
شرد یادو نے کہاکہ انسان بننا سب سے پہلی ضرورت ہے باقی سب کچھ بعد میں ہے۔ یہی وقت ہے کہ ملک و قوم کے لئے سوچنے والے لوگ متحد ہوجائیں۔عید ملن کی اس پر وقار تقریب میں ملک کے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری سمیت ملک کے معروف سیاستدانوں، مذہبی و ملّی رہنماو¿ں، بیرونی ممالک کے سفراء اور بڑی تعداد میں معزز شخضیات نے شرکت کی۔
دیگر اہم شخصیات میں مولانا توقیر رضا ، چودھری اجیت سنگھ، غلام نبی آزاد ،سی پی آئی ( ایم) کے سیتارام یچوری ، محمد سلیم ، سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت ، منی شنکر ایئر، راجیو شکلا، عمران قدوائی، ایس وائی قریشی ،سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید،علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ،مولانا عبدالعلیم فاروقی جنرل سکریٹری جمعیت علماءہند ،سراج الدین قریشی ،اچاریہ پرمودکرشنن ، سوامی اگنی ویش ، پی ایل پونیا، شاہد صدیقی ، شبنم ہاشمی، مولانا جلال الدین عمری،مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی ، مولانا اسرار الحق قاسمی(ایم پی) ، اشہد رشیدی، قاری محمد عثمان منصورپوری ، مولانا محموداے مدنی ،جسٹس راجندراسچر، اتل انجان ،قاسم رسول الیاس ، نویدحامد ،محمودالظفر، ڈاکٹرجان دیال ، ہریندرسنگھ سرنا ، مرزا جاوید، حاجی سلامت اللہ، حسن احمد، ہارون یوسف، چودھری متین احمد، ،راشد علوی، ایس ایم خان، کلدیپ نیئر اور عاصم احمد وغیرہ شامل تھے۔(یواین آئی)

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Rahul gandhi slams bjp govt in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply