راہل گاندھی اور اروند کیجری وال دہلی یونیورسٹی کی طالبہ گور مہر کی حمایت میں سامنے آئے

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کے کیمپس اور رام جس کالج میں ہنگامہ کے بعد طالبہ گرمہر کور کو آن لائن دھمکیاں دیئے جانے پراہم سیاسی رہنما گور مہر کور کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے کیمپس میں تشدد اور اے بی وی پی کے خلاف گور مہر کور کے موقف کو درست قرار دیا۔ راہل گاندھی نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ ”خوف اور جبر واستبداد کے خلاف ہم اپنے طلبا کے ساتھ ہیں۔“ مسٹر گاندھی نے کل شام اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ” غصہ ، نفرت اور عدم رواداری کے خلاف ہمیشہ ایک گرمہر کو ر کھڑی ملے گی۔“ کیجری وال نے گور مہر کور کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی پر غنڈوں اور جرائم پیشہ عناصر کی پارٹی ہونے کا الزام لگایا ۔ اس ضمن میں انہوں نے کور کے اس ویڈیو کو عام کیا جس میں اسے ریپ کی دھمکی دی گئی تھی۔
کیری وال نے ٹوئیٹ میں کہا کہ اسے سنیں ،یہ ہے بی جے پی۔یہ ملک کو برباد کر دے گی۔ہر شخص کو اس غنڈہ گردی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ گرمہر کورنے الزام لگایا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر انکے خلاف تبصرے کے ساتھ ساتھ انھیں دھمکیاں بھی ملی ہیں۔ انھوں نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپنی پروفائل تصویر لگائی ہے جس پر تحریر ہے ”پاکستان نے میرے والد کو نہیں مارا ، جنگ نے انھیں مارا ہے “، اسکی وجہ سے انھیں سخت ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس تنازعہ میں مرکزی وزیر بھی شامل ہوگئے ہیں۔ وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن ریجیجو نے کل ایک ٹوئیٹ میں سوال کیا کہ ” اس نو عمر لڑکی کے ذہن میں کون زہر گھول رہا ہے۔“ مسٹر ریجیجو نے یہ بھی کہا کہ حکومت پر نکتہ چینی کرو لیکن بھارت ماتا کو گالی مت دو۔

Title: rahul gandhi arvind kejriwal come out in support of du girl gurmehar kaur | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply