تین طلاق کے رواج سے مسلم خواتین بری طرح متاثر ہو رہی ہیں:وینکیا نائیڈو

کوچی:اطلاعات و نشریات کے وزیر وینکیا نائیڈو نے ایک ساتھ ’تین بار طلاق‘ کے طریقہ کو خواتین کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہ ’غیر اسلامی‘ ہے اور مرکزی حکومت اس طریقہ کو ملک سے ختم کرنے کا تہیہ کیے ہے۔ مسٹر نائیڈو نے کیرل کے شہر کوچی میں میڈیا کے نمائدوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مرکز سے اس سلسلے میں رائے مانگی تھی اور حکومت نے ’تین طلاق‘ کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی بات کہی تھی۔
مرکزی حکومت کی طرف سے مرد اور عورتوں کے درمیان صنفی مساوات کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ سماجی، مالی اور جذباتی سطح پر خواتین کے ساتھ کسی بھی طرح کا سلوک آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے تحت ہی ہونا چاہیے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ تمام افراد کو صنفی انصاف اور مساوی حقوق فراہم کر کے ہی جنسی عدم مساوات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔یہ سب وہ مسائل ہیں جن پر ہم بحث کر رہے ہیں۔ اب ’تین طلاق‘ کے طریقہ ان میں سے ایک ہے اور اس پر بحث چل رہی ہے۔
لاءکمیشن نے بھی کہا ہے کہ مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے پر بحث کے بعد یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ’تین طلاق‘ کا طریقہ خواتین کے مفاد میں نہیں ہے۔ مرکزی حکومت کی بھی رائے ہے کہ اسے ختم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس کے طریقہ سے خواتین کو نقصان ہو رہا ہے۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ کئی اسلامی ممالک میں اس طریقہ پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر آپ کسی بھی شخص کو ا س کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتے۔مرکزی حکومت مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتی اور عورت اور مرد کو ایک جیسا سمجھتی ہے اس لئے ان کے ساتھ یکساں سلوک کیا جانا چاہیے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Practice of triple talaq causing harm to women venkaiah naidu in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply