ہندوستان نے ایشیا سے غریبی کے خاتمہ اور تجارت کے فروغ کے لیے پڑوسی ملکوں سے ریل رابطہ پر زور دیا

نئی دہلی : ہندوستان نے خطہ سے غربت کا خاتمہ کرنے اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے پڑوسی ملکوں کے ساتھ ریل رابطہ بڑھانے پر زور دیا ہے ۔ وزیر ریل سریش پربھو نے تجارتی ترقی کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ نقل و حمل ربط سازی پر زور ڈالتے ہوئے انہوں نے نیپال کے دارالخلافہ کٹھمنڈو سے دہلی اور کولکاتا ریل رابطہ کی وکالت کی۔انہوں نے استنبول سے اسلام آباد کوریڈور کو لاہور-لدھیانہ-کولکتہ-ڈھاکہ کے راستے ینگون تک توسیع دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے آج یہاں ایشیا بحرالکاہل خطہ کے لئے اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن کی طرف سے جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا میں مضبوط ریل نیٹ ورک کے موضوع پر منعقد ایک دو روزہ ورکشاپ کے افتتاح کے موقع پر یہ تجویز پیش کی۔ ورکشاپ میں ہندستان کے علاوہ آٹھ ممالک -افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، قزاخستان، میانمار، نیپال، پاکستان اور روس کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں۔ مسٹر سریش پربھو نے کہا کہ دنیا کی اقتصادی ترقی کا مرکز ایشیا ہونے والا ہے۔
اس کیلئے علاقائی اقتصادی ترقی کے مواقع کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے جس کے لئے کاروبار اور بازار کو بربوط کرنے اور نقل و حمل رابطہ بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحری نقل و حمل کا نیٹ ورک بھلے ہی موجود ہو لیکن موسم میں تبدیلی کے چیلنج اور وقت اور اخراجات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ریل نیٹ ورک کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا، جنوب مغرب اور جنوب مشرقی ایشیا کے علاقے دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقے ہیں۔ یہاں ہی غریبی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ریل رابطہ کے ذریعے نہ صرف کاروبار بلکہ غریبی کے خاتمے میں بھی کامیابی ضرور ملے گی۔ ریلوے کے وزیر نے بتایا کہ ہند نیپال کے درمیان کھٹمنڈو سے دہلی اور کھٹمنڈو سے کولکتہ کے درمیان ٹرین رابطہ پر کام شروع ہوگیا ہے۔ بھوٹان میں بھی دو مقامت سے کنیکٹوٹی پروجکٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کے ساتھ انڈین ریلوے بہت سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ امپھال سے جری بام ہوکر تامو اور مانڈلے تک ریل نیٹ ورک تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ افغانستان کی حکومت نے بھی ہندستان سے ملک میں ریل نیٹ ورک کی تعمیر میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔ مسٹر سریش پربھو نے کہا کہ ترکی کے استنبول سے ایران کی راجدھانی تہران ہوکر پاکستان میں اسلام آباد تک کنٹینر ٹرین چلانے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ اسے لاہور سے لدھیانہ-کولکتہ ہوکر ڈھاکہ اور آگے میانمار تک جوڑنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی چاٹگام بندرگاہ ہندستان کے شمال مشرقی علاقے کے لئے اہم ہے۔ بعد میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں مسٹر سریش پربھو نے کہا کہ اس ریل کنیکٹوٹی سے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کو فائدہ ہو گا۔ ورکشاپ میں بنگلہ دیش کے نمائندہ ظہیر الاسلام نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ڈھاکہ سے کاکس بازار کے راستے دوہزاری-گنڈم تک 129 کلو میٹر تک طویل ریلوے لائن بچھائی جا رہی ہے جو 2019 تک مکمل ہو جائے گی۔ اس سے بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان براہ راست ریل رابطہ قائم ہو جائے گا۔ اسی طرح اگرتلہ اور آھورا کے درمیان لائن بھی 2018 تک مکمل ہو جائے گی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Prabhu for rail connectivity with neighbouring nations in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply