دہلی کی فضائی آولودگی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے گذشتہ سال دہلی کی فضائی آلودگی پر ،جس کے باعث گذشتہ سال شہر میں کم و بیش60ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں،حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور پوچھا کہ وہ بتائے کہ انسانی زندگی بچانے اور صنعت میں سے کیا زیادہ اہم ہے؟ جسٹس مدن بی لوکر کی سربراہی میں ایک بنچ نے کہا کہ گذشتہ سدال 60ہزار آدمی فضائی آلودگی کے باعث مر چکے ہیں۔ شہر میں لوگ مر رہے ہیں۔

بنچ نے وزارت ماحولیات سے پوچھا کہ گندگی و غلاظت کا انبار ہے۔لوگ اس میں سانس لینے پر مجبور ہیں اور سانس نہ لیں تو کیا کریں۔بنچ نے پیٹ کوک فیکٹریوں اور صنعتی اکائیوں میں کام آنے والا ایندھن) پابندی لگانے کے حوالے سے ایک معاملہ کی سماعت کے دوران یہ سن کر اظہار ناراضگی کیاکہ وزارت ماحولیات طویل عرصہ سے اس کامطالعہ کر رہی ہے۔

عدالت جو ای پی سی اے کے اس مطالبہ پر غور کر رہی ہے کہ پیٹ کوک کی درآمدات کو باضابطہ کر دیا جائے وزارت ماحولیات سے معلوم کیا کہ کیا اس نے ای پی سی اے سے اس معاملہ پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔وزارت پیٹولیم و قدرتی گیس نے بھی پیٹ کوک درآمد کرنے کو باضابطہ کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pollution whats more important saving lives or industry sc asks govt in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply