این آر او اور شیلٹر ہوم جنسی اسکینڈل سیاست کی نذر؟

سید اجمل حسین

ہندوستان میں کوئی بھی واقعہ ہو اس کو بلا لحاظ پارٹی و جماعت مل بیٹھ کر حل کرنے یا اس کا حل تلاش کرنے کے بجائے اسے مذہبی ، سماجی و سیاسی رنگ دے کر اس پر سیاست شروع کر دی جاتی ہے اور اگر معاملہ انتخابات سے عین قبل ہو تو اس پر توکچھ زیادہ ہی سیاست شروع ہوجاتی ہے۔ ہر پارٹی اپنے مفاد کو مدنظر رکھ کر اس پر تبصرے ، زیادہ زور ڈالنے کے لیے زبانی احتجاج اور متاثرین کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے مظاہرے کرنا شرو ع کر دیتی ہے۔ اب اس وقت ملک میں دو چارمعاملات ایسے چھڑے ہوئے ہیںجس نے ملک کی ہر پارٹی کو متحرک کر رکھا ہے اور سبھی کو عام انتخابات سے بہت پہلے ہی ایسے موضوع مل گئے ہیں جس پر وہ ہنگامے کر کے متاثرین کی ہمدردیاں سمیٹنے میں لگے ہیں۔

حالانکہ یہ واقعات اس قدر تکلیف دہ ہیں کہ اس پر متاثرین کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ان کے زخموں پر پھایا رکھنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا کرنے کے بجائے تمام پارٹیاں اپنی اپنی ڈفلی بجانے میں لگی ہیں۔ اس وقت آسام میں شہریوں کے رجسٹریشن کے مسودے سے 40لاکھ سے زائد افراد کا نام حذف کردینے کے المیہ پر حکمراں اور اصل حز ب اختلاف کانگریس ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے میں لگی ہیں۔ تو دوسری جانب بہار کے مظفر پورمیں ایک شیلٹر ہوم کی بچیوں سے ریپ کے سنسنی خیز انکشاف سے پورا ملک شرمسار ہو گیا لیکن جس ریاست کے شہر میں یہ کھیل کھیلا جاتا رہا وہاں کی حکومت اس وقت تک کانوں میں تیل ڈالے بیٹھی رہی جب تک کہ حزب اختلاف نے دہلی کے جنتر منتر پر اس واردات اور اس پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خاموشی کے خلاف احتجاج کے بہانے اپنی متحدہ طاقت کا مظاہرہ نہیں کر دیا۔حالانکہ اگر نتیش کمار چاہتے تو جیسے ہی ممبئی کی ایک تنظیم نے سماجی آڈٹ کی رپورٹ دی تھی جس کی بنیاد پر محکمہ تحفظ اطفال کے مظفر پور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے ایف آئی آر بھی مئی میں ہی درج کرادی تھی۔

ظاہر ہے کہ اس سے وزیر اعلیٰ کا دفتر کیسے بے خبر رہ سکتا تھا لیکن حکومت پر بے حسی طاری رہی ۔اگر اسی وقت کاررواائی کرتے ہوئے سب سے پہلے اس شیلٹر ہوم کے مالک برجیش ٹھاکر کو گرفتار کر لیا گیا ہوتا تو جو اقدام نتیش کمار کو حزب اختلاف کے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے کے بعد کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے اتوار کے روز محکمہ اطفال کے افسران کو معطل نہ کرنا پڑتا۔اور کہا جاتا ہے کہ معطل کیے گئے افسروں میں اس معاملہ کی ایف آئی آر درج کرانے والے افسر دیویش کمار بھی، جنہوں نے کہ ایف آئی آر درج کرا کر اس رپورٹ کو کیس بنایا تھا،شامل ہیں۔کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس مظاہرے میں نتیش کمار کو چیلنج کیا تھا کہ اگر انہیں اس وحشیانہ واردات پر واقعی احساس شرمندگی ہے تو وہ ذمہ داروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کریں ۔نتیش نے اس پر عمل بھی کیا لیکن اصل ملزم برجیش ٹھاکر پرآنچ بھی نہیں آئی اور عتاب اس افسر پر نازل ہوا جس نے اپنی ایف آئی آر میں کہاتھا کہ ممبئی کی تنظیم ٹاٹاانسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس کی رپورٹ آنے کے باوجود شیلٹر ہوم کے مالک برجیش ٹھاکرکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حالانکہ یہ وہی برجیش ٹھاکر ہے جسے بہار حکومت شیلٹر ہوم میں بچیوں دیکھ بھال اور اس کی دیگر این جی اوز کو( غیر حکومتی ادارے) دیگر مدوں میں ہر سال ایک کروڑ روپے کی امداد دیتی ہے۔ چونکہ ہندوستان میں یہ وطیرہ رہا ہے کہ ہمیشہ چھوٹی مچھلیوں کو وہیل اور شارک جیسی مچھلیوں کو بچانے کے لیے پھنسایا جاتا ہے۔اور وہ چھوٹے عہدے پر فائز افسران سیاسی قلعہ میں اثر و رسوخ رکھنے والوں کی سازشوں کا شکا ر ہو جاتے ہیں اور معاملہ دب جاتا ہے۔برجیش ٹھاکر کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس روز ایف آئی آر درج کرائی گئی اور اس ایف آئی آر میں برجیش کا نام بھی دیا گیا اسی برجیش کا اسی روز مبینہ طور پر بہار کے دارالخلافہ پٹنہ میں ایک نیا ٹینڈر دیا گیا تھا۔اور یہ ٹینڈر کسی اور نے نہیں بلکہ بہار کے محکمہ تحفظ اطفال کے ڈائریکٹر راج کمار کے دستخط سے دیا گیا تھا۔

کیا یہ بات ممکن ہو سکتی ہے کہ جس محکمہ کے ایک ضلع کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کوئی ایف آر کرائے اور محکمہ کا ڈائریکٹر اس سے لاعلم رہے۔لیکن نتیش حکومت نے اس ڈائریکتر کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ اگر کی ہوتی تو میڈیا میں جو نام جاری کیے گئے ان میں ان کا نام اور عہدہ بھی شامل ہوتا ۔ظاہر ہے کہ اگر ان کا نام بھی شامل ہوتا تو زیک زلزلہ آجاتا کیونکہ اس سے ڈور برجیش ٹھاکرسے ہوتے ہوئے نہ معلوم کتنے چھوٹے بڑے سیاستدانوں اور ان سیاست دانوں سے نہ معلوم اور کہاں تک جاتی۔کیونکہ اس میں معاملہ دولت کا لالچ نہیں بلکہ جنسی ہوس تھی۔وہ جنسی پیاس جو سفید پوش اپنے دامن پر بدنامی کا کوئی داغ دھبہ نہ آنے دینے کے لیے ایسے ہی اداروں کا رجوع کرتے ہیں۔ 31مئی کو برجیش ٹھاکر کو جو ٹینڈر جاری کیا گیا تھا اس سے پہلے بھی رپورٹ حکومت کو دیے جانے سے ایف آئی آر درج ہونے تک کی درمیانی مدت میں بھی برجیش کو ٹینڈر دیے جاتے رہے تھے۔ اگرچہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ بھلے ہی مجرم بچ جائے لیکن کسی بے قصور کو سزا نہ ملے۔لیکن یہاں معاملہ اس کے بر عکس ہے۔اصل ملزم تو کھلا گھوم رہا ہے اور قربانی کا بکرا بنائے جانے والے بے قصور افسروں کو عہدوں اور ملازمت سے برطرف کر کے داخل زنداں کرنے کی تدبیریں کی جارہی ہیں۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Politics on nro and shelter home sex scandlal in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply