دہلی کی بوانا اسمبلی سیٹ کے لیے ضمنی چناؤ میں عام آدمی پارٹی ، بی جے پی اور کانگریس کا وقار داؤ پر

نئی دہلی:شمال مغربی دہلی کی بوانا اسمبلی سیٹ پر 23 اگست کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی حکومت کے کام کاج کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کے بھروسے ضمنی الیکشن جیتنے کا خواب دیکھ رہی ہے وہیں کانگریس کے لیڈران بھی اسے اپنے وقار کا سوال بنا کر دہلی میں واپسی کے لئے سیٹ پر قبضہ کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہیں۔ پنجاب اور گوا اسمبلی انتخابات میں ناکامی ، دہلی کے راجوری گارڈن اسمبلی سیٹ کے ضمنی انتخاب میں پارٹی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہونے اور تینوں کارپوریشنوں کے انتخابات میں پارٹی کو خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کے بعد اب بوانا کا ضمنی الیکشن مسٹر کیجریوال کے لئے کڑی آزمائش بن گیا ہے۔
اس الیکشن کی کمان خود مسٹر کیجریوال نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے اور ان کی پوری کابینہ علاقے میں کیمپنگ میں مصروف ہے۔ بوانا اسمبلی میں کارپوریشن کے چھ وارڈ ہیں۔ اپریل میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی نے یہاں کے تین وارڈوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ عام آدمی پارٹی اور کانگریس کے کھاتے میں ایک ایک وارڈ ہی آیا تھا۔ سال 2015 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹیم کے ٹکٹ پر وید پرکاش نے یہاں بڑی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن پارٹی اور مسٹر کیجریوال کے طور طریقوں پر اظہار ناخوشی کرتے ہوئے انہوں نے اس سال اپریل میں استعفیٰ دے دیا اور بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ مسٹر وید پرکاش ہی ضمنی انتخاب میں بی جے پی کے ٹکٹ پر میدان میں ہیں۔ دہلی اسمبلی کی 70 سیٹوں میں سے محفوظ 12 سیٹوں میں بوانا بھی شامل ہے۔ کانگریس کے سریندر کمار نے 1998، 2003 اور 2008 کے انتخابات میں یہاں سے جیت حاصل کی تھی۔ سال 2013 میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کے گگگن سنگھ کامیاب ہوئے تھے لیکن 2015 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی یہ سیٹ بچا نہیں پائی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Political prestige at stake for aap cong and bjp in delhis bawana assembly bypoll in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News
Tags: , ,

Leave a Reply