غریب اور متوسط طبقہ کا استحصال ختم کرانے کے لیے مروج کرنسی منسوخ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف لڑائی کو سیاست سے نہ جوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کسی کو پریشان کرنے کے لئے نہیں بلکہ معیشت کو مضبوط بنانے، خزانے کی لوٹ روکنے اور غریب اور متوسط طبقے کا استحصال ختم کرنے کے لئے کیا گیا جو اب تک کا دنیا کا سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ صدر جمہوریہ کے خطاب پر راجیہ سبھا میں تین دن سے جاری بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے نوٹوں کی منسوخی پر تنقید کرنے والے سابق وزیر اعظم اور ملک کے جانے مانے ماہر اقتصادیات منموہن سنگھ پر نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر بھی شدید حملہ کیا۔ مسٹر مودی کی مسٹر سنگھ پر اس سلسلے میں کئے گئے طنزیہ تبصرے سے دلبرداشتہ کانگریس کے ارکان نے ان کی تقریر کے درمیان ہی ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ان کے ساتھ سماج وادی پارٹی کے ارکان بھی ایوان سے باہر نکل گئے۔ مودی نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف لڑائی ہے اور کسی سیاسی پارٹی کو پریشان کرنے کے لئے نہیں ہے اور کسی کو اس سے اپنے آپ سے نہیں جوڑنا چاہئے بلکہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی حتی الامکان اس میں مدد کرنی چاہئے۔ نوٹوں کی منسوخی کو دنیا کا سب سے بڑا اور وسیع فیصلہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ماہرین اقتصادیات کے پاس اس طرح کے فیصلے کے حساب کتاب کا کوئی پیمانہ نہیں ہے کیونکہ ابھی تک ایسا فیصلہ کہیں نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دنیا بھر کے لوگوں ہی نہیں بلکہ یونیورسٹیوں کے لئے بھی مطالعہ کا موضوع بن گیا ہے اور اسے سمجھنے میں وقت لگے گا اور اس کے مخالفین کو بھی اس کے فوائد بعد میں سمجھ میں آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے بے ایمانوں کی دقت بڑھے گی اور ایمانداروں کو تقویت ملے گی۔ مسٹر مودی نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ کالا دھن اور جعلی نوٹ ہماری معیشت اور معاشرے کے نظام کا حصہ بن گئے تھے اور ایک متوازی معیشت کھڑی ہو گئی تھی جس میں غریبوں کا حق چھینا جا رہا تھا اور متوسط طبقے کا استحصال ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کو آخر کب تک قالین کے نیچے دبایا جاتا رہے گا۔ انہوں نے 1970 کی دہائی میں اس وقت کے وزیر خزانہ وائی بی چو ان کے نجی سکریٹری گوڈبولے کی ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وانگچو کمیٹی نے بھی اس وقت نوٹوں کی منسوخی کی سفارش کی تھی لیکن مسٹر چو ان نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے اس بارے میں بات کی تو محترمہ گاندھی نے یہ کہتے ہوئے اس سفارش کو نافذ نہیں کیا کہ ہمیں انتخابات بھی لڑنے پڑتے ہیں۔ اس پر کانگریس کے ارکان نے سخت احتجاج کیا اور وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہنگامہ کرنے لگے۔ وزیر اعظم نے کالے دھن کے خلاف لڑائی میں بائیں بازو کی جماعتوں کو ساتھ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 1972 میں سی پی ایم کے ایم پی جیوترمے باسو نے بھی نوٹوں کی منسوخی پر عمل دارآمد کے لئے وانگچو کمیٹی کی رپورٹ کے لئے لڑائی لڑی تھی اور خود انہوں نے پرائیویٹ بل کے ذریعے اس کمیٹی کی رپورٹ 26 اگست 1972 کو اسی ایوان میں رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سی پی ایم کے اس وقت کے جنرل سکریٹری ہرکشن سنگھ سرجیت نے بھی 1981 میں اس ایوان میں 100 روپے کا نوٹ بند کرنے کی وکالت کی تھی۔

Title: pm narendra modis reply to motion of thanks on presidents address | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply