ملک میں دلتوں پر سب سے زیادہ ظلم اترپردیش میں ہوتے ہیں: مودی

بارہ بنکی:(یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ اتر پردیش کے ہر کونے میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے تئیں شدید نفرت کا ماحول دکھائی دے رہا ہے اور اسمبلی انتخابات میں ان تینوں جماعتوں کو سزا دیے بغیر اس صوبے کے حالات نہیں بدلیں گے۔ مودی نے یہاں بی جے پی امیدواروں کی حمایت میں منعقد انتخابی ریلی میں کہا کہ ریاست کے ہر کونے میں ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے خلاف ان کے اقتدار کی وجہ سے زبردست نفرت پھیلی ہوئی ہے۔ عوام اگر انہیں سزا نہیں دے گی تو یہ حالت نہیں بدلے گی۔ اس بار موقع مت گوائیں۔ پانچ سال تک جن کی وجہ سے آپ کو مشکلات جھیلنی پڑی ہیں، وہ سب ایک منٹ میں ٹھکانے لگ جائیں گے، اگر صحیح جگہ انگلی دبائی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پانچ سال پہلے وزیر اعلی اکھلیش یادو کی وعدوں سے متاثر ہوکر حمایت کی تھی اور عوام کو لگتا تھا کہ وہ ریاست کی بھلائی کے لئے کچھ کریں گے۔ ابھی تو آپ (اکھلیش) کو فرصت نہیں ہوگی لیکن 11 مارچ کے بعد جب عوام ان کو گھر بھیج دے گی، تو فرصت میں سوچئے گا کہ عوام میں کتنی نفرت ہے۔ تب اس کا حساب لگایئے گا۔ مودی نے کہا کہ جمہوریت میں چنی گئی یہ حکومت غریبوں، دلتوں، مظلوموں، نوجوانوں، مزدوروں، ماں بہنوں کی حفاظت کے لیے ہونی چاہیے، لیکن اکھلیش حکومت نے انہیں لوگوں کا سب سے زیادہ استحصال کیا ہے۔
انہوں نے طنز بھرے لہجے میں کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کے نصف عہدے خالی ہیں اور ہسپتالوں میں نہ تو ڈاکٹر ہے اور نہ ہی ادویات، جبکہ اکھلیش جی کہتے ہیں کہ ان کا کام بولتا ہے۔مودی نے دعوی کیا کہ ملک میں دلتوں پر سب سے زیادہ ظلم اترپردیش میں ہوتے ہیں۔صوبے میں عدالتوں کے ذریعے دلت ظلم و ستم کے مقدمے درج کرانے کی نوبت آئی۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کیونکہ اکھلیش جی نے تھانے کو ایس پی کا دفتر بنا دیا ہے۔ جب تک سماج وادی پارٹی کا صوبیدار ہاں نہ کہے، ایس ایچ او کاغذ پر ایک لفظ بھی لکھنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اگر کسی داروغہ نے ایمانداری سے لکھ بھی دیا تو اس کی تو چھٹی طے سمجھیں۔ وزیر اعظم نے کہا”چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہ کسانوں کی تقریبا 60 فیصد پیداوار کو امدادی قیمت پر خریدتی ہے۔ ہریانہ کی بی جے پی حکومت 70 فیصد اور راجستھان کی حکومت 50 فیصد پیداوار خریدتی ہے۔ اترپردیش میں صرف تین فیصد پیداوار ہی خریدی جاتی ہے“۔ مودی نے کہا ” اتر پردیش نے مجھے رہنما بنایا اور وزیر اعظم بھی بنایا ہے۔ یہ ریاست میرا مائی باپ ہے۔یہ گود لیا ہوا بیٹا آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ میں آپ کا ساتھ دوں گا“۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے قرارداد میں اعلان کیا ہے کہ 11 مارچ کو ریاست میں انتخابات کے نتائج آئیں گے۔ دو تین دن میں بی جے پی حکومت کی حلف برداری ہوگی اور پہلی کابینہ میٹنگ ہوگی۔ یہ گود لیا ہوا بیٹا آپ سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ منشور میں کسانوں کا قرض معاف کرنے کی قرارداد کو پورا کروائے گا۔ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کانگریس اتحاد پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کانگریس دو ماہ پہلے گاؤں گاؤں جاکر ’27 سال یوپی بے حال ‘کا نعرہ دے رہی تھی۔ اچانک کیا ہو گیا، وہ سماج وادی پارٹی کے گلے لگ گئے۔ انہیں کس سے ڈر لگ رہا ہے۔ کانگریس تو ڈوبتی ہوئی کشتی ہے، لوک سبھا میں عوام نے انہیں مسترد کیا ہے۔ اکھلیش بچنے کے لئے کچھ بھی کریں لیکن اب پانچ سال کے اندھیر ے کو عوام معاف نہیں کرنے والی ہے۔ اپنی حکومت کے نوٹ بندی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آٹھ نومبر 2016 کو ہم نے 500 اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بند کر دیئے۔ اس سے جو لوگ نوٹوں کے بستر بنا کر سوتے تھے، ان کی نیند اڑ گئی۔ غریبوں سے جو 70 سال میں لوٹا گیا ہے، وہ غریبوں کو لوٹانا ہی پڑے گا۔ یہ ذمہ میں نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش کا الیکشن اترپردیش کی قسمت بدلنے والا ہے۔ بی جے پی پوری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pm modi sp congress alliance will shatter your dreams in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply