وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف راہل کے الزامات بے بنیاد اور ان کی مایوسی کا مظہر:بی جے پی ترجمان

نئی دہلی :بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی پر بد عنوانی کے الزامات کو پوری طرح بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مایوسی اور غصے میں اس طرح کے الزامات لگا رہے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں خاص طور پر طلب کی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ مسٹر گاندھی آگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر سودے کی دلالی کے معاملے میں اپنے خاندان اور کانگریس کے لیڈروں کا نام سامنے آجانے پر ہراساں ہو کر عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ الزامات لگا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسٹر گاندھی کی قیادت میں چونکہ کانگریس بار۔بار شکست سے دوچار ہو رہی ہے اس لئے لوگوں کو بھی اب ان پر یقین نہیں رہ گیا ہے۔ عوام تو اب کانگریس کو بلدیہ چلانے کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔ مسٹر پرساد نے کہا کہ شکست خوردہ اور مایوس راہل گاندھی غصے میں ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس طرح کے بے بنیادالزامات لگانے پر اتر آئے ہیں۔ وہ آگسٹا ویسٹ لینڈ معاملے میں اپنے خاندان اور پارٹی کے لیڈروں کا نام آنے سے سخت پریشان ہیں۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ مسٹر گاندھی خود پانچ ہزار کروڑ روپے کے نیشنل ہیرالڈ گھپلے میں ضمانت پر ہیں اور گنگا میا کی طرح پاک وصاف وزیر اعظم نریندر مودی پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم مودی کی ریاست گجرات کے ہی ایک شہر مہسانہ میں کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپوں سے متعلق ایسے دستاویزی ثبوت موجود ہیں جن میں وزیر اعظم نریندر مودی کو گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کے طور پر سہارا گروپ اور برلا کمپنی کی طرف سے کروڑوں روپے دئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں وزیر اعظم سے خود ملک کو صفائی دینے اور ا س کی آزادانہ انکوائری کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم مسٹر مودی کے آبائی ریاست گجرات کے شمالی ضلع مہسانا میں کانگریس کی نوسرجن گجرات ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ ان کے پاس اس بات کے دستاویزی ثبوت ہونے کی وجہ سے ہی وزیر اعظم پارلیمنٹ میں ان کا سامنا نہیں کررہے تھے اور انہیں بولنے بھی نہیں دیا جارہا تھا۔ مسٹر گاندھی نے ، جن کے اس دعوی پر کہ ان کے پاس مسٹر مودی کے ذاتی بدعنوانی کا ثبوت ہے اور اگر وہ پارلیمنٹ میں بولیں گے تو زلزلہ آجائے گا کے سلسلے میں سوالات اٹھائے جارہے تھے ، مسٹر مودی کی ریاست میں ہی یہ سنسنی خیز دعویٰ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا۔ میں بتاتا ہوں کیوں آپ پارلیمنٹ میں میرے سامنے نہیں آئے تھے۔ چھوٹا بڑا ہر کاروباری اپنا حساب رکھتا ہے۔ اسی طرح 22 نومبر 2014 کو سہارا کمپنی پر انکم ٹیکس کا چھاپہ پڑا۔ اس دوران ملے سہارا کے ریکارڈ میں جو لکھا تھا اس کے مطابق 30اکتوبر 2013 کو ڈھائی کروڑ روپے نریندر مودی کو دیے گئے۔ 12 نومبر 2013 کو پانچ کروڑ، 27نومبر 2013 کو ڈھائی کروڑ، 29نومبر 2013 کو پانچ کروڑ، چھ دسمبر 2013 کو پانچ کروڑ، 19دسمبر 2013 کو پانچ کروڑ اور 13جنوری 2014 کو پانچ ، 14جنوری 2014 کو پانچ کروڑ اور 22فروری 2014 کو پانچ کروڑ روپے نریندرمودی جی کو دئے گئے۔ یہ سب ریکارڈ میں ہے اور اس پر انکم ٹیکس محکمہ کے افسران کے دستخط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں نو مرتبہ سہارا کے لوگوں نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ نریندر مودی جی کو پیسہ دیا گیا ہے۔ اب مودی جی بتائیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیاہے۔پچھلے ڈھائی سال میں اس کی تحقیقات کیوں نہیں کرائی گئی۔ ایک وزیر اعظم پر الزام لگایا ہے۔ آپ نے پورے ملک کولائن میں کھڑا کردیا ہے اور پورے ملک میں ایماندار ی اور ایماندار لوگوں کی کمائی پر سوال اٹھایا۔ اب میں ملک کی طرف سے پوچھ رہا ہوں کہ کیا یہ اطلاع جو آئی ٹی کے پاس ہے سچ ہے۔ اور اگر یہ سچ ہے تو اس کی جانچ کب ہوگی۔ مسٹر گاندھی نے ایک اور الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بات یہی ختم نہیں ہوتی۔ ایسا ہی ایک کمپیوٹر ریکارڈ برلا کمپنی کا ہے جس میں صاف لکھا ہے کہ 25کروڑ روپے گجرات سی ایم کو ۔جس میں سے بارہ کروڑ دے دیے گئے باقی کے سامنے سوالیہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ آپ وزیر اعظم ہیں آپ پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ ان پر انکم ٹیکس کے افسران کے دستخط ہیں۔ جنہیں ہم ملک کو اور آپ کو دکھا دیں گے۔ اب آپ (مسٹر مودی) خود بتائیں یہ سچ ہے یا نہیں۔وزیر اعظم پر سوال اٹھ رہا ہے یہ سچ ہے یا نہیں۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pm modi as pure as ganga rahul gandhis allegations are baseless bjp in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply