بلوچستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے عوام پر پاکستانی سیکورٹی فورسز کے مظالم کا اب پاکستان کو جواب دینا ہوگا:وزیر اعظم مودی

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے70ویں یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان اورپاک مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی کھل کر حمایت کی ۔انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ گذشتہ کچھ دنوں میں بلوچستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے باشندوں نے جس طرح سے انہیں مبارک باد دی ہے اور جس طرح سے اظہار تشکر وجذبہ خیر سگالی کیا ہے اس کے لیے وہ ان کے ممنون ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ جن سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی ہے وہ ہندوستان کے وزیر اعظم کی ہی نہیں عزت کر رہے ہیں بلکہ ہندوستان کے سوا سو کروڑ ہم وطنوں کا بھی کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نے گزشتہ جمعہ کو کشمیر کی صورت حال پر طلب کردہ کل جماعتی میٹنگ میں کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو دنیا کے سامنے بلوچستان اور پی او کے میں لوگوں پر ہو رہے مظالم کا جواب دینا ہوگا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان علاقوں کے لوگوں نے مسٹر مودی کی تعریف کی تھی اور ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جب پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہوا تو ہندوستانی بھی اس بہیمانہ واردات پر روئے تھے۔
پارلیمنٹ سے لے کر گھروں تک ہر بڑا چھوٹا رو رہا تھا۔ یہ ہماری فطرت ہے لیکن دوسری جانب جب ہندوستان میں دہشت گردانہ وارداتیں ہوتی ہیں اور اس میں وسیع پیمانے پر ہلاکتیں ہوتی ہیں تو پاکستان میں جشن منایا جاتا ہے۔اس ضمن میںمسٹر مودی نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی خاص طور پر پڑوسیوں سے متعلق پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس دن انہوں نے حلف لیا تھا، اسی دن جنوبی ایشیا علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے رہنماؤں کو مدعو کرکے ان سے بات چیت کی تھی اور ان سے اپیل کی تھی کہ وہ مل جل کر خطے کے مشترکہ چیلنج غربت سے جنگ لڑیں۔ اپنے عوام کو غربت سے آزادی دلانے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اگر ہم عوام کو غربت سے آزادی دلا پائے تو ہندوستان بہت ترقی کرے گا لیکن غربت دور کرنے کی بجائے دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کی تربیت حاصل کرنے والوں اور دہشت گردی کو فروغ دینے والوں میں کیا فرق ہے؟ اسے سمجھنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقتصادی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے معاملے میں ہندوستان نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اقوام متحدہ کی ایک تنظیم نے آئندہ دو برسوں میں مجموعی گھریلو پیداوار(جی ڈی پی) میں اضافہ کے معاملے میں ہندستان کے 10 ویں مقام سے تیسرے نمبر پر آنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔
مسٹر مودی نے عالمی معیشت کو ذہن میں رکھ کر ہندوستان کو عالمی معیار پر لانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہندوستان دنیا کی ترقی میں اپنا تعاون کر پائے گا اور دنیا کی معیشت کی قیادت کر سکے گا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی منظر نامے میں ہر ملک ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ہم کتنی بھی ترقی کر لیں لیکن عالمی واقعات کا اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے پیش نظر ہندستانی معیشت کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا اور تبھی ہم دنیا کی قیادت کر سکیں گے۔مودی نے کہا کہ ان کی حکومت ’ریفارم،پرفورم اور ٹرا نسفورم‘کے ذریعے عالمی سطح پر ملک کی شناخت قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ ان کی حکومت اپنی نہیں بلکہ ملک کی شناخت قائم کرنے کے لئے کام کر ہی ہے اور اسے ہی ترجیح دی گئی ہے۔ پارٹی کی بنے نہ بنے، ملک کی شناخت بننی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں نے اپنی شناخت بنانے کے لئے کام کیا۔ لیکن مودی حکومت ’ریفارم،پرفارم اور ٹرا نسفارم‘ کے ذریعے دنیا میں حکومت کی شناخت بننے سے زیادہ ہندوستان کی شناخت بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ واضح پالیسی اور صاف نیت سے فیصلے کرنے کا جذبہ الگ ہوتا ہے اور اس کے بل پر ہی بے جھجک فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کی حکومتیں اعتراضات و گھپلوں سے گھری رہتی تھی لیکن موجودہ حکومت توقعات سے گھری ہے۔ حکومت کو حساس ہونا چاہئے۔ کام کرنے کے لئے صاف نیت اور فیصلے کی ضرورت ہے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan must answer on atrocities in pok and balochistan pm modi in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply