حزب اختلاف کے غل غپاڑے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی کوئی کام کیے بغیر بدھ تک ملتوی

نئی دہلی: کسانوں کے مسائل،گﺅ رکشکوں کے ہاتھوں پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کے واقعات اور چند دیگر اہم اور سلگتے موضوعات پر حزب اختلاف کی کم و بیش تمام پارٹیوں کے اراکین کے زبردست شو ر و غل کے باعث منگل کے روز کوئی کام نہیں ہوپایا اور لوک سبھا کی کارروائی بدھ تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔ ایوان کی کارروائی صبح شرو ع ہوتے ہی اسپیکر سمترا مہاجن نے جموں و کشمیر میں بس حادثہ میں امرناتھ یاتریوں کی موت اور 24 اپریل کو نکسلی حملے میں شہید ہوئے جوانوں نیز لندن کے مانچسٹر اور افغانستان سمیت ملک اور بیرون ملک میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں، حادثات اور سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے لوگوں کے تئیں ایوان کی طرف سے تعزیت پیش کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ اراکین نے ہلاک ہونے والوں کی روح کی تسکین کے لئے دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی۔
اس کے بعد اسپیکر نے جیسے ہی وقفہ سوالات شروع کرایا ، کانگرس ، ترنمول کانگریس ، این سی پی ، بیجو جنتا دل ، راشٹریہ جنتا دل اور انا ڈی ایم کے نیز مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے اراکین مختلف امور پر بحث کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر شو ر شرابہ کرنے لگے۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے ، جیوترادتیہ سنہا اور این سی پی کے طارق انور سمیت کئی اراکین اسپیکر کی نشست کے سامنے آکر نعرے بازی کرنے لگے۔ شو رشرابے میں کچھ سنائی نہیں پڑا۔ کچھ اراکین نے ہاتھوں میں تختیاں بھی لے رکھی تھیں جن پر لکھا تھا وجے مالیا کو بھگایا ہے، کسانوں کو رلایا ہے۔ گؤ رکشک تو بہانا ہے ، کسانو ں کی قرض معافی سے دھیان ہٹانا ہے۔ اس پر محترمہ مہاجن نے چند منٹ کے اندر کارروائی دوپہر بارہ بجے تک کے لئے ملتوی کردی۔ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے بیشتر اراکین ایوان میں موجود تھے لیکن حزب اقتدار کی بیشتر سیٹیں خالی تھیں۔
ایوان کی کارروائی بارہ بجے دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن کے اراکین پہلے کی طرح ہی ہاتھوں میں تختیاں لئے کسانوں کے مسائل پر پھر سے نعرے بازی کرنے لگے اور شو ر شرابہ کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست کے نزدیک پہنچ گئے۔ کچھ تختیوں پر لکھا تھا من کی بات کرتے ہو، کسانوں کے من کی بات بھی سن لو۔کسان ہی دیش کی آن ، نہیں گھٹنے دیں گے ان کا مان۔ اسپیکر نے اراکین کو بار با رپرسکون رہنے کی اپیل کی لیکن وہ نعرے بازی کرتے رہے۔شو رشرابے کے درمیان ہی سیاحت اور ثقافت کے وزیر مملکت مہیش شرما نے قدیم عمارتوں اور آثار قدیمہ ترمیمی بل ، پٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان نے بھارت پٹرولیم اور انرجی انسٹی ٹیوٹ بل 2017 اور دیگر وزیروں نے بھی بل بھی رکھے گئے۔ کچھ ضروری کاغذات بھی ایوان میں رکھوائے گئے۔ ہنگامہ جاری رہنے پر محترمہ مہاجن نے ایوان کی کارروائی بدھ تک کے لئے ملتوی کردی۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Opposition uproar over farmers cow issues lead to lok sabha adjournment in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply