کیا اپوزیشن صرف’ بی جے پی مکت بھارت“بنانے کے لیے متحد ہو رہی ہے؟

سید اجمل حسین

ابھی نہ تو 2019کے عام انتخابات کی ہوا چلی ہے اور نہ ہی انتخابی جنگ کا بگل بجا ہے اس کے باوجود انتخابی جنگ کے لیے حکمراں و حزب اختلاف نے اپنی حکمت عملی وضع اور اپنے ہتھیار سیقل کرنا شروع کردیے ہیں۔ اس جانب ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے کانگریس نے اعلان کر دیا ہے کہ اسے وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر حزب اختلاف کی کسی بھی پارٹی کا امیدوار منظور ہوگا۔

کانگریس نے یہ قربانی دے کر حزب اختلاف کی ہر پارٹی کو جہاں خوش فہمی میں مبتلا کر دیا وہیں بی جے پی قیادت والی حکمراں جماعت کی حلیف جماعتوں میں بھی ایک پیغام پہنچ گیا کہ اگر وہ بھی این ڈی اے سے ناطہ توڑ کر متحدہ حزب اختلاف میںشامل ہو جائیںتو ا ن میں سے کبھی کسی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ سکتا ہے کیونکہ ان میں سے کچھ پارٹیاں خاص طور پر تمل ناڈو کی انا ڈی ایم کے اور آندھرا پردیش کی تیلگو دیشم اور اڑیسہ کی بیجو جنتا دل(بی جے ڈی)کو بھی ایک آس ہو جائے گی کہ جو موقع مرکز میں مخلوط حکومت سازی کی دعویدار ی کے وقت انہیںآج تک نہیں مل سکا شاید وہ اس بار مل جائے۔لیکن اس سے ایک بات ثابت ہو گئی کہ کانگریس نے اب غیر بی جے پی حکومت بنانے سے زیادہ وزیر اعظم کے عہدے سے نریندر مودی کو بے دخل کرنے پر سارا زور لگا دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جمعہ جمعہ 8روز کے سیاسی لیڈر تیجسوی یادو کی ایک آواز پرکانگریس صدر راہل گاندھی دوڑے دوڑے جنتر منتر پہنچ گئے اور مظفر پور شیلٹر ہوم میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی وارداتوں پرنتیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہر ے میں تقریر بھی کی۔اس احتجاجی مظاہرے میں تمام بڑی غیر بی جے پی اور کمیونسٹ پارٹیوں کے لیڈروں کی آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو کی آواز پر لبیک اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ تمام لیڈران ”بی جے پی مکت بھارت“ یا باالفاظ دیگر ”مودی ،شاہ مکت بھارت“ کی تعمیر پر کمر بستہ ہو چکے ہیں۔اسی لیے انہوں نے بہار اور یوپی کی اہم پارٹیوں آر جے ڈی، سماج وادی او ر بہوجن سماج پارٹی کے سربراہوں کی آواز پر آمنا و صدقنا کہنا شروع کر دیا ہے۔

کیونکہ اتر پردیش کی80اور بہار کے40 یعنی 120سیٹیں ایسی ہیں جو بی جے پی کی نہیں نریندر مودی کی قسمت کا فیصلہ کریں گی کہ وہ مسند اقتدار پر بر قرارر رہیں گے یا نہیں۔اسی لیے کانگریس کا بھی حزب اختلاف کے وزیر اعظم امیدوار کے طور پر کسی کو بھی قبول کر لینے کی پیش کش کے بعد تیجسوی یادو کی آواز پر جنتر منتر پہنچنا اسی حکمت عملی کا ایک جزو سمجھا جارہا ہے ۔اگر اترپردیش میں سماج وادی پارٹی و بہوجن سماج پارٹی کے بعد دیگر علاقائی پارٹیاں راشٹریہ لوک دل اور پیس پارٹی پلس کانگریس بھی متحدہ حزب اختلاف کا حصہ بن جاتی ہیںاور ادھر بہار میں جے ڈی یو مائنس عظیم اتحاد تشکیل دے دیا جاتا ہے تو بی جے پی اور جے ڈی یواورلوک جن شکتی کو جو جھٹکا لگے گا اس کے براہ راست اثرات یقیناً وزیر اعظم مودی کے امکانات پر پڑیں گے ۔ اور بی جے پی صدر امیت شاہ پارٹی کو اسی اثرات سے بچانے کی تگ و دو میں تن من دھن سے لگ چکے ہیں۔ سیاسی حلقوں کانگریس کی یہ پیش کش اس کی حکمت عملی سے زیادہ مودی سے اس کے خوف کامظہر ہے۔

کیونکہ اسے ہی کیا حزب اختلاف کی ہر پارٹی کو اس بات کو پورا یقین ہے کہ دامودر مودی کے خلاف وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر کوئی چہرہ نہیں ٹک سکتا۔ اگر ریاستی ترتیب وار جائزہ لیا جائے تو جس طرح بی جے پی صدر میت شاہ ملک کے طول و عرض کو ناپ رہے ہیں اور کئی کئی دن سفر میں رہتے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی یہ صبر آزما مسافت اترپردیش میں جب تک ایس پی اور بی ایس پی کا باقی علاقائی پارٹیوں اور کانگریس سے انتخابی معاہدہ ہوگا اس وقت تک بی جے پی کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہوں گی کہ کانگریس کی وزارت عظمیٰ کی امیدواری کے حوالے سے قربانی بھی رائیگاں چلی جائے گی۔ادھر مدھیہ پردیش میں کانگریس صدر کمل ناتھ اور پارٹی کی انتخابی مہم کے سربراہ اور جیوترا دتیہ سندھیاکے درمیان امیدواروں کے حوالے سے رسہ کشی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب گاو¿ں بسا نہیں اچکے پہلے آگئے کے مصداق انتخابات کا اعلان ہوا نہیں وازرت اعلیٰ پر ٹکراو¿ پہلے ہوگیا ، ان دونوں لیڈروں کے درمیان وزارت اعلی کے عہدے کے لیے ٹوئیٹر جنگ کے درمیان دگ وجے سنگھ پھنس کر رہ گئے۔اب جہاں دو مہاراجہ(سندھیا) اور راجا(دگ وجے) ہوں تو وہاں کمل ناتھ کس گنتی میں ہیں۔ اس خانہ جنگی سے بی جے پی کو یقیناً فائدہ پہنچے گا ۔اور اس کی سیٹیں شاید کچھ اور بڑھ جائیںگی۔

مغربی بنگال میں اگرچہ یہ آواز اٹھنا شروع ہو گئی ہے کہ ہندوستان کے عوام کو کاشتکاروں اور خواتین کے لیے کام کرنے والی ممتا بنرجی جیسی حکمراں کی ضرورت ہے پھر بھی جس طرح بی جے پی وہاں اپنےپنجے گاڑ رہی ہے اس سے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو اپنی سیاسی زمین کچھ کمزور ہوتی نظر آرہی ہے اور اب وہ بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو گئی ہے جس کا ثبوت حال ہی میں ایک بی جے پی کارکن کا قتل کر دیا جانا ہے۔ اب بھلے ہی ترنمول کانگریس یہ کہتی رہے کہ عوامی ہمدردی سمیٹنے کے لیے اس قتل میں خود بی جے پی والوں کا ہاتھ ہے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ عوام میں تو یہ پیغام چلا گیا کہ بی جے پی واوں پر”دیدی“ کا عتاب نازل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ویسے بھی مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کا ووٹ فیصد بڑھا ہے۔ اور نریندر مودی نے اگر ملک سے کانگریس کا صفایہ کر ”کانگریس مکت بھارت“ کا عزم کیا تھا تو پارٹی صدر امیت شاہ نے ”ترنمول کانگریس مکت بنگال“ کا تہیہ کر رکھا ہے ۔

ایسے حالات میں کون کہہ سکتا ہے کہ بی جے پی کا کسی ریاست میں پایہ کمزور ہو گیا ہے۔جبکہ اس کا تو ان ریاستوں میں بھی پایہ کھڑا ہونا شروع ہو گیا ہے جس ریاست کے چاروں ستون روز اول سے غیر بی جے پی پارٹیاں رہی ہیں۔علاوہ ازیں بی جے پی صدر امیت شاہ حال ہی میں لوک سبھا کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ناکامی کے حوالے سے بات کرتے صاف صاف کہہ چکے ہیں کہ ضمنی انتخابات اس امر کی نشاندہی نہیں کر سکتے کہ عام انتخابات میںبھی یہی نتیجہ بر آمد ہوگا کیونکہ ضمنی انتخابات میں عام انتخابات کی طرح وزیر اعظم کو منتخب کرنا نہیں ہوتا اور ان کی اس بات میں وزن ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Opposition united for stop the bjp in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply