اس بار گجرات اسمبلی انتخابات میں صرف تین مسلمان ہی جیت سکے

نئی دہلی: گجرات اسمبلی کے لیے انتخابی مہم کے دوران کئی موقعوں پر فرقہ وارانہ بیان بازی سیاست میں حاوی رہی۔اور عام طور پر یہی کہا جا رہا تھا کہ مسلم ووٹ بے فیض و بے مصرف ثابت ہوں گے۔اب جبکہ انتخابی شور و غل تھم گیا اور ایک سکون سے دکھائی دے رہا تو نتائج دیکھ کر اسمبلی میں مسلم نمائندگی کی صورت حال وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق رہی۔
کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور صرف تین مسلم ہی جیت سکے ۔ہاں البتہ 2012کے اسمبلی انتخابات کے مقابلہ اس بار ایک مسلم ایم ایل اے بڑھ گیا ہے۔2012میں صرف دو مسلمان اسمبلی میں پہنچے تھے لیکن اس بار تین مسلمان ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔یہ تینوں ہی کانگریس کے ٹکٹ پر جیت کر اسمبلی میں پہنچے ہیں۔
کانگریس نے اس بار صرف6مسلمانوں کو ٹکٹ دیا تھا جبکہ 2012میں اس نے7مسلم امیدوار کھڑے کیے تھے۔جن میں سے دو ہی جیت سکے تھے۔ لیکن2007میں پانچ مسلم امیدوار جتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اور2002میں تین مسلمان ایم ایل اے بنے تھے۔گجرات اسمبلی الیکشن میں بی جے پی نے کبھی کسی مسلمان کو امیدوار نہیں بنایاتھا۔جو تین مسلمان امیدوار جیتے ہیں ان میں جمال پور کھڈیا میں بی جے پی کے موجودہ ایم ایل اے بھوشن بھٹ کو 29339سے ہرانے والے عمران یوسف بھائی کھنڈیلوال،دریاپور احمد آباد سے شیخ غیاث الدین حبیب الدین اور راجکوٹ کے ونکانیر سے پیر زادہ محمد جاوید عبد المطلب ہیں۔ یہ دونوں2007اور2012میں بھی الیکشن جیت چکے ہیں۔

Title: only three muslim mlas in gujarat this time but still one better than 2012 | In Category: ہندوستان  ( india )
Tags: , ,

Leave a Reply