سابق ممبران پارلیمنٹ کی پنشن پر عدالتی نوٹس سے لوک سبھا اراکین میں سخت غم و غصہ

نئی دہلی: ممبران پارلیمنٹ سمیت عوامی نمائندوں کے پنشن اور بھتے پر سپریم کورٹ کے ایک نوٹس کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے آج لوک سبھا میں اس پر سخت اعتراض کیا۔ ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے وقفہ سوالات میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ نے ایک غیرسرکاری تنظیم کی عرضی پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے جنرل سکریٹریوں اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں سابق ممبران پارلیمنٹ سمیت منتخب نمائندوں کے اراکین کے پنشن اور بھتے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مسٹر رائے نے کہاکہ سابق ممبران پارلیمنٹ کی تنخواہ اور بھتے کا ضابطہ قانون میں موجود ہے۔ انہوں نے عدالت کے اس نوٹس کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں دخل اندازی قرار دیا۔ ڈاکٹر رائے نےلوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن سے کہاکہ وہ ایوان کی سرپرست ہیں، اس لئے ممبران کے اختیارات کی حفاظت کریں۔ مسٹر رائے کی جانب سے یہ مسئلہ اٹھائے جانے پر ممبران نے میزیں تھپتھپا کر ان کی حمایت کی۔ عدالت کے نوٹس کے سلسلے میں کئی اراکین بھی مشتعل نظر آئے۔
بیجو جنتا دل کے تھاگت ستپتھی نے غصہ میں کہاکہ ججوں اور ممبران پارلیمنٹ دونوں کی پنشن ختم کردی جانی چاہئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے اراکین کی تشویش پر کہاکہ تنخواہ اور بھتہ ممبران پارلیمنٹ کا خصوصی حق ہے اور آئین کے آرٹیکل 106 میں اس کی گارنٹی ہے۔ اس پر سوال نہیں اٹھایا جانا چاہئے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Only parliament has right to decide on pension of ex mps govt in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply