ایک اورکسان نے بیلوں یا ٹریکٹر کے بجائے موٹر سائیکل سے کھیت جوتا

حیدرآباد:بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبہ میں بھی ٹکنالوجی اپنا اثر چھوڑ رہی ہے۔ روایتی طور پر ہل چلانے کیلئے بیلوں کے استعمال کے بجائے ایک کسان نے اپنی بائیک کے ذریعہ کھیت میں ہل چلایا اور اس سے اسے فائدہ بھی ہوا۔ اس میں دو افراد کے ساتھ مل کر کھیت کی جتائی کی۔آندھراپردیش کے ضلع کرنول کے ہوسور کا رہنے والا ملیا دو ایکڑ زرعی اراضی کا مالک ہے۔
اس نے روایتی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے بائیک کا استعمال کرتے ہوئے ہل چلایا۔ اس نے کہا کہ ایک ایکڑ پر بیلوں کے ذریعہ ہل چلانے پر نوسو روپئے کے اخراجات آتے تھے جبکہ بائیک کے ذریعہ ہل چلانے پر ایک ایکڑ پر 450 روپئے کا خرچ آیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل کرناٹک کے بیلگام میں ایک کاشتکار نے اپنے کھیت بائیک سے جوتے تھے ۔اس وقت اس نے بتایا تھا کہ ایک ایکڑ اراضی کی جتائی پر بائیک میں صرف ڈیڑھ لیٹر پیٹرول کی کھپت ہوئیاور اس نے صرف سات لیٹر میں اپنا ساڑھے چار ایکڑ کھیت جوت لیا تھا۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: One more farmer uses bike to plough land in hyderabad in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply