سپریم کورٹ نے بڑے نوٹ بند کرنے کے فیصلہ سے سڑکوں پر تشدد بھڑک اٹھنے کا خدشہ ظاہر کیا

نئی دہلی: بڑے نوٹوں پر پابندی لگادینے کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک ہفتہ میں دوسری بار مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا حالات بد تر ہوتے جارہے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں سڑکوں پر فسادنہ پھیل جائے۔
علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے نوٹوںپر پابندی کے فیصلوں کو ذیلی عدالتوں یا ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے والی عذر داریوں پر سماعت پر حکم امتناعی جاری کرنے سے بھی انکار کر دیا۔چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے کہا کہ500اور1000روپے پر پابندی لگانے کو چیلنج کرنے والی تمام عرضیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ کس قدر سنگین ہو گیا ہے۔
چیف جسٹس نے ملک بھر میں روز مرہ کے ضروریات پوری کرنے کی خاطر نقدی کے لیے جدوجہد اور بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر لوگوںکو قطاروں میں کھڑا کرنے کی سزا دینے کا ذکر کرتے ہوئےحکومت سے معلوم کیا کہ اس نے 500اور 1000روپے کے نوٹ تو بند کر دیے لیکن 100روپے کے نوٹ کہاں ہیں۔
سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ یوں تو وہ روزانہ اعلان کر رہی ہے کہ عوام کو سہولتیں بہم پہنچائی جائیں گی لیکن اب رقم بدلوانے کی حد یکایک کم کر کے 2000روپے کر دی ۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟ کیا نوٹ چھپ نہیں رہے؟جس پر اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ مسئلہ طباعت کا نہیں ہے بلکہ ملک بھر میں بینکوں کی لاکھوں شاخوں میں پیسہ بھیجا جا رہا ہے جس کے باعث یہ رقم کی حد کم کی گئی ہے تاکہ ہر ایک کو مل سکے۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Notes ban problem is serious we will have riots says supreme court in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply