معروف شاعر و نغمہ نگارندا فاضلی انتقال کر گئے

ممبئی : عالمی شہرت یافتہ شاعر و گیت کار ندا فاضلی کا ممبئی میں طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا ۔ وہ 76سال کے تھے ۔ پیر کی دوپہر میں انہیں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ندا فاضلی ساہتیہ اکاڈمی اور پدم شری ایوارڈیافتہ مقبول شاعر و نغمہ نگار تھے۔عدم رواداری پر ندا فاضلی نے کہا تھا کہ یہ محض100افراد کا کھیل ہے۔ہمارا معاشرہ عدم روادار نہیں ہے۔ اور ایک خاص قسم کی سیاست اس قسم کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے۔ندا فاضلی اپنی غزلوں، دوہوں اور نظموں میں روز مرہ کی بول چال کے استعمال کے باعث غزل گانے والوں اور ادو ادب پڑھنے والوں میں بہت معروف و مقبول تھے۔انہوں نے اپنی شاعری سہل اور سلیس اردو میں کرنے کے لیے فارسی استعاروں ، تصور اور ثقیل الفاظ کے استعمال سے اجتناب برتا ۔ان کے کچھ مشہور فلمی نغمے’ آبھی جا‘،’ تو اس طرح سے میری زندگی میں‘ اور ’ہوش والوں کو خبر کیا‘ ہیں۔
کہاجاتا ہے کہ ندا فاضلی نے سور داس کی ایک نظم سے متاثر ہو کر شاعر بننے کا فیصلہ کیاتھا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج ہی یعنی 8فروری ان کے گہرے دوست اور مشہور گلو کار آنجہانی جگجیت سنگھ کا یوم پیدائش تھا۔ جس پر ٹیوٹر پر کسی نے ٹوئیٹ کیاکہ شاید خدا کو اپنے یہاں کوئی خاص محفل سجانا تھی جس کے لیے اس نے دو گہرے دوستوں میں سے ایک گلو کار کی سالگرہ پر اس کے گیت کار دوست کو بھی اوپر طلب کر لیا۔ان کے ایک اور شاعر دوست منور رانا نے،جو خود بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں،ندا کے انتقال پر افسوس اور قلبی و ذہنی تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے کہا”انسان تھا کبھی مگر اب خاک ہو گئے۔لے اے زمیں ہم تیری خوراک ہو گئے‘۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Noted urdu poet nida fazli no more in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply