نوٹ بندی کے باعث خانگی تشدد میں اضافہ، بیویوں کو زدو کوب کیاگیا اور مائیکے بھیج دیا گیا:ایک رپورٹ

بھوپال:نومبر میں ہزار اور پانچ سوکے نوٹ منسوخ کئے جانے کے بعد چند ہفتوں میں گھریلو تشدد کے واقعات میںکافی اضافہ دیکھنے اور سننے میں آیا۔ مردوں کو اس بات پر غصہ تھا کی ان کو بتائے بغیر ان کی بیویوں نے پیسہ بچاکر رکھا تھا۔ بھوپال میں ون اسٹاپ کرائسس سینٹر کو ملی شکایات کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے۔ ”گوراوی“ مرکز کو چلانے والی رضاکار تنظیم ایکشن ایڈ کی علاقائی ڈائرکٹر ساریکا سنہا نے کہا”شوہروں کے اپنی بیویوں کو دھمکیاں دینے ، انہیں مارنے پیٹنے کے متعدد واقعات سامنے آئے۔ بیویوں کے پاس پس انداز کئے ہوئے پیسے دیکھ کر انہیں لگا کہ ان کا بیویوں پر کنٹرول نہیں ہے وہ ان سے چھپاکر پیسے رکھتی ہیں کئی مردوں نے تو اپنی بیویوں کو جیل تک بھیجنے کی بات کہی۔ مذکورہ مرکز مدھیہ پردیش حکومت کے صحت عامہ اور خاندانی بہبود محکمہ کی شراکت سے کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ”یوں تو بیویاں ہمیشہ سے ہی بچت کرتی آئی ہیں مگر وہ پیسہ شوہروں سے چھپا رہتا تھا۔ نوٹ بندی کی وجہ سے انہیں اپنا راز کھولنا پڑا اور راتوں رات وہ اپنے شوہروں کی نظر میں مجرم بن گیئں۔ مارپیٹ کا شکار ہونے والی کئی خواتین نے جو شواجی نگر میں سرکاری جے پی ہسپتال آئی تھیں مرکز کو اپنے ساتھ بیتی ہوئی کہانی سنائی۔ نومبر میں مرکز کے ٹیلی فون نمبر پر 1200 شکایات موصول ہوئیں۔ عموماً اسے ہر ماہ عورتوں کی 500 شکایات ملتی ہیں ان 1200 خواتین میں سے 230 کو بلاکر انہیں صلاح و مشورہ دیا گیا۔ بیشتر خواتین نے بتایا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ان کے گھر میں جھگڑے ہوئے اور ان کے شوہروں نے انہیں مارا پیٹا۔ ایک 27 سالہ خاتون کے حوالے سے مرکز کی رابطہ کار شوانی سینی نے کہا کہ جب 9 نومبر کو جب اس کے شوہر کویہ پتہ چلا کہ اس نے ساڑے چار ہزار روپے چھپاکر رکھے ہوئے تھے تو شوہر نے سات بچوں کے ساتھ اسے گھر سے نکال دیا۔ انہوں نے بتایا متاثرہ خاتون اور اس کے شوہر کو بلاکر سمجھایا بجھایا گیا۔
اس نے ہماری بات تو سنی مگر پھر بھی اس کا ذہن نہیں بدلا خاتون اب بھی اپنے میکے میں رہ رہی ہے ویسے تو شوہر اسے پہلے بھی پریشان کرتا تھا مگر کبھی گھر سے نکالنے کی حد تک نہیں گیا تھا۔ مسز سوانی نے ایک اور واقعہ کا ذکر کیا جس میں ایک مرد نے اپنی بیوی کو ڈرایا دھمکایا اور جو دس ہزار روپے اس نے بچاکر رکھے تھے اس میں سے 8 ہزار روپے مانگے اور کہا کہ ”غیرقانونی طور سے رقم گھر میں رکھنے کی وجہ سے اسے جیل جانا پڑے گا۔ بعض معاملات میں شوہروں کے اشتعال کی وجہ یہ بھی تھی کہ اچانک ہی ان کی یومیہ مزدوری ختم ہوگئی تھی۔ نوٹ بندی کی وجہ سے متعدد لوگوں کا روزگار ختم ہوگیا تھا اور وہ بے کار ہوگئے تھے اوریہ غصہ انہوں نے بیویوں پر نکالا۔
ایک دیگر واقعہ میں ایک شوہر اپنی بیوی کو 13 سالہ بیمار بیٹی کے انسولین کے انجکشن کے لیے پیسہ دینے سے انکار کردیا۔ اسے بے حد پریشان کیا اور پھر میکے بھیج دیا۔ بعض شوہروں نے اس بات پر سخت اعتراض کیا کہ بیوی نے اس کے علم میں لائے بغیر پیسہ کیسے بچاکر رکھا۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں کہ نوٹ بدلوانے کے بعد انہوں نے بیوی کو پیسہ واپس نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز نے خواتین کو نوٹ بندی اور بدلتے ہوئے قوانین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور ان میں بیداری پیدا کرنے کے لئے بہت وقت صرف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ”حالات معمول پر آنے میں 40 سے 95 دن لگے تب کہیں جاکر عورتوں پر تشدد کے واقعات میں کمی آئی۔“

Title: note ban led to rise in domestic violence says madhya pradesh crisis centre | In Category: ہندوستان  ( india )

Leave a Reply