نصاب تعلیم میں بھگود گیتا کو لازمی مضمون بنانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں :حکومت

نئی دہلی: اسکولی نصاب تعلیم میں بھگودگیتا کو لازمی بنائے جانے کے لئے حکومت کے پاس کوئی تجویز نہیں ہے۔ ترقی انسانی وسائل کے وزیر مملکت اوپندر کشواہا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیقات و تربیت ( این سی ای آر ٹی) کی 12 ویں کلاس کے سنسکرت کی نصابی کتاب میں بھگودگیتا کا باب چہارم (کرما گوروم) کے کچھ اقتباسات 2007-2008 سے پہلے ہی شامل ہیں۔ لیکن الگ سے مکمل بھگودگیتا کو کورس میں شامل کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
مسٹر اوپیندر کشواہا نے کہا کہ این سی ای آرٹی کی طرف سے 2005 میں طے کئے گئے قومی نصاب کے خاکہ میں کہا گیا ہے کہ بھگودگیتا کا یہ حصہ 12 ویں کلاس کی سنسکرت سبجیکٹ کی کتاب میں اس لئے شامل کیا گیا ہے تاکہ ملک کے ثقافتی ورثے اور قومی شناخت کو تقویت دی جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد نئی نسل کو پرانی تہذیب اور ثقافت کے تناظر میں موجودہ سماجی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے ۔

Read all Latest india news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from india and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No proposal to make bhagavad gita compulsory in schools in Urdu | In Category: ہندوستان India Urdu News

Leave a Reply